بیت حانون پر حملہ، 18 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غزہ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق بیت حانون پر اسرائیلی گولہ باری میں اٹھارہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ہسپتال کے ذرائع نے بتایا ہے کہ مرنے والے تیرہ افراد کا ایک ہی خاندان سے تعلق تھا۔ ہلاک شدگان میں دو خواتین اور چھ بچے شامل تھے۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے اس واقعہ کو ’قتل عام ‘ قرار دیا ہے جبکہ اسرائئلی وزیر اعظم یہوں اولمرٹ نے اس پر معذرت کا اظہار کرتے ہوئے انسانی امداد فراہم کی پیش کش کی ہے۔ اس حملے کی ویڈیو تصاویر عرب ممالک میں ٹی وی پر دکھائی گئی ہیں اور حماس کے ایک سینئر رہنما خالد مشعل نے کہا ہے کہ اس کی جوابی کارروائی ہونی چاہیے۔ حماس کے رہنما اسمعیل ہنیہ نے اس واقعہ کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور فلسطینی رہنماؤں نے کہا ہے کہ اس پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانا ضروری ہے۔ برطانیہ، یورپی یونین اور عرب لیگ نے اس کی سخت مذمت کی ہے۔ محمود عباس نے اس واقعہ کے بعد تین دن کے سوگ کا اعلان کیا ہے اور ساتھ ہی بیت حانون کے لیے ایک ملین ڈالر ہنگامی امداد کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے بیت حانون پر ایک بڑے آپریشن کے بعد اپنی افواج منگل کو واپس بلائی تھیں۔ ایک ہفتے سے زیادہ جاری رہنے والے اس آپریشن میں ایک اسرائیلی فوجی اور کم سے کم 60 فلسطینی ہلاک ہوئے تھے۔ |
اسی بارے میں اسرائیلی حملہ میں طلبہ ہلاک06 November, 2006 | آس پاس اسرائیلی کارروائی میں چار ہلاک13 October, 2006 | آس پاس غزہ: بیت حانون کا محاصرہ ختم03 November, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||