غزہ: سپینی فوٹوگرافر کی رہائی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکام کا کہنا ہے کہ غزہ میں اس سپینی فوٹو گرافر کو رہا کر دیا گیا ہے جسے ایک روز قبل اغوا کیا گیا تھا۔ سینتیس سالہ ایمیلیو مورانیٹی ایک فوٹو گرافر ہیں جو خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس یا اے پی کے لیئے کام کرتے ہیں۔ انہیں ایک روز قبل اس وقت اغواء کیا گیا جب وہ غزہ شہر میں صبح سویرے ایک اسائنمنٹ پورا کرنے کے لیے اپنے فلیٹ سے باہر نکل رہے تھے۔ انہیں ایک مسلح شخص نے جو ایک فوکس ویگن میں سے نکلا تھا اغوا کیا اور انہیں گاڑی میں ڈال کر اپنے ساتھ لے گیا۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ انہیں کسی نے اور کس مقصد کے لیے اڑوا کیا تھا۔ حماس نے اس اغوا کی مذمت کی ہے۔ گزشتہ دو سال کے دوران تقریباً چوبیس غیر ملکی افراد کو اغوا کیا گیا لیکن پھر کسی نقصان یا مطالبے کے بغیر رہا کیا گیا ہے۔ غزہ میں بی بی سی کے نامہ نگار ایلن جونسٹن کا کہنا ہے کہ یہ غیر موثر گروہ ہیں جو مغویوں کو حکومت سے سودی بازی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اگست میں مزاحمت کاروں نے امریکی ادارے فاکس نیوز کے دو صحافیوں کو اغوا کیا تھا لیکن یہ معاملہ اتنی جلدی ختم نہیں ہوا تھا اور انہیں تیرہ دن تک قبضے میں رکھنے کے بعد چھوڑ گیا تھا۔ | اسی بارے میں اسرائیلی حملے، 19 فلسطینی ہلاک14 October, 2006 | آس پاس غزہ: مزید چار فلسطینی ہلاک12 October, 2006 | آس پاس غزہ پر حملہ، ایک فلسطینی ہلاک01 October, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||