BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 25 November, 2006, 23:52 GMT 04:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غزہ: چندگھنٹوں کی صلح بندی کو خطرہ
غزہ حملہ
اسرائیلی فوج گزشتہ پانچ ماہ سے غزہ میں زمینی کارروائی کر رہی ہے
غزہ سے اسرائیلی علاقے پر میزائیل فائر کرنے سے اسرائیل اور فلسطینی گروپوں کے مابین جنگ بندی کے معاہدے کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق اسرائیل اور فلسطینی گروپوں کے درمیان جنگ بندی کے چند گھنٹوں کے بعد غزہ کے علاقے سے تین میزائیل فائر کیے گئے جو اسرائیلی قصبے سیدورت میں گرے لیکن ان سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔

جنگ بندی پر عمل درآمد اتوار کو مقامی وقت کے مطابق صبح چھ بجے شروع ہوا۔

اسرائیل کے وزیر اعظم ایہود اولمرٹ نے کہا ہے کہ اسرائیل میزائیل فائر کیے جانے کے باوجود صبر کا دامن نہیں چھوڑے گا۔

اس سے پہلے اسرائیل اور فلسطینی گروپوں نے غزہ میں پر تشدد کارروائیاں بند کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

امریکہ نے غزہ میں جنگ بندی کا خیر مقدم کیا ہے اور وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نےایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔

فلسطینی رہنما محمود عباس نے تمام شدت پسند گروپوں سے یہ یقین دہانی حاصل کی ہے کہ وہ غزہ سے اسرائیل پر راکٹ حملے بند کر دیں گے۔

اس کے جواب میں اسرائیل کے وزیر اعظم ایہود اولمرٹ نے تمام فوجی کارروائیاں بند کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق یہ اعلان غیر متوقع اور ایک بہت بڑی پیش رفت ہے۔

اسرائیل کہتا رہا ہے کہ غزہ میں اس کی فوجی کارروائیوں کا مقصد فلسطینی علاقے سے کیے جانے والے راکٹ حملوں کو روکنا ہے۔

اس سے پہلے پیر کو غزہ پر ایک اسرائیلی ہوائی حملے میں کم از کم ایک حماس کارکن ہلاک ہو گیا۔

فلسطینی حکام کے مطابق حملے میں دو کاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ حملے میں چار افراد زخمی بھی ہوئے۔

غزہ میں بی بی سی کے نامہ نگار ایلن جونسٹن کا کہنا ہے کہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ محمود عباس نے سینچر کی شام کو اسرائیلی وزیر اعظم کو فون کر کے اس بات سے آگاہ کیا کہ انہوں نے تمام شدت پسند گروہوں سے اس بات پر اتفاق رائے حاصل کر لیا ہے کہ وہ اسرائیل پر راکٹ فائر کرنا بند کر دیں گے۔

نامہ نگار کے مطابق اسرائیل نے اس پیش کش کا مثبت جواب دیا ہے اور تمام فوجی کارروائیاں بند کرنا کا اعلان کیا ہے۔

تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ آیا جنگ بندی کا وقت شروع ہونے پر تمام اسرائیلی فوجی غزہ سے واپس بلا لیے جائیں گے یا نہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم کی ترجمان مِری ایسن نے بی بی سی کو بتایا کہ وزیر اعظم ایہود اولمرٹ نے اس بات ہر آمادگی ظاہر کی ہے کہ جنگ بندی کا وقت شروع ہونے کے بعد اسرائیلی فوج کوئی جارحانہ کارروائی شروع نہیں کرے گی۔

ترجمان کے مطابق مسٹر اولمرٹ نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ جنگ بندی کے برقرار رہنے کے باوجود غزہ سے تمام اسرائیلی فوج کو واپس بلانے میں کچھ وقت لگے۔

یروشلم میں بی بی سی نامہ نگار سائمن ولسن کے مطابق اگرچہ حالیہ دنوں میں ممکنہ جنگ بندی کا ذکر تو ہوتا رہا ہے لیکن اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر سے اس کی براہِ راست تصدیق حقیقی طور پرحیرانگی کی بات ہے۔

نامہ نگار کے مطابق ماضی میں اسرائیلی حکام اس بات کے اشارے دیتے رہے ہیں کہ انہیں اس بات کا یقین نہیں ہے کہ مسٹر محمود عباس کے پاس فلسطینی گروپوں سے جنگ بندی پر عمل درآمد کرانا کا اختیار بھی ہو۔

اسی بارے میں
فلسطینی پیشکش مسترد
24 November, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد