خانہ جنگی شروع ہوسکتی ہے: حماس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطین میں حکمراں تنظیم حماس نے کہا ہے کہ اگر حکومت یا قانون ساز اسمبلی توڑی گئی تو خانہ جنگی شروع ہو سکتی ہے۔ حماس کا یہ بیان فلسطینی صدر محمود عباس کے اس بیان کے بعد آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ فلسطین میں قومی حکومت کی تشکیل کی کوششیں ایک بار پھر وہیں پہنچ گئی ہیں جہاں سے شروع ہوئی تھیں۔ صدر محمود عباس کا کہنا ہے کہ حماس ان کئی سمجھوتوں سے پھر گئی ہے جو ان کے مطابق اس نے حکومت میں آنے سے قبل کیئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ حماس اسرائیل کوو تسلیم کرے، تشدد ترک کر کے اس کی مذمت کرے اور ان تمام معاہدوں اور مفاہمتوں کا اعتراف کرے جو اسرائیل سے کی گئی ہیں۔ اس سے پہلے یہ کہا گیا تھا کہ فلسطینی صدر محمود عباس اور منتخب حماس اہلکاروں میں حکومت سازی کا عمل اس بات پر پھر آ کر اٹک گیا ہے آیا اسرائیل کو تسلیم کیا جائے گا یا نہیں۔ صدر محمود عباس نےجمعرات کو اقوام متحدہ سے خطاب میں کہا تھا کہ حماس کے ساتھ بنائی گئی متحدہ حکومت کے لیئے اسرائیل کو تسلیم کرنا اور تشدد کو رد کرنا ضروری ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’پی ایل او نے ماضی میں اسرائیل، امریکہ یا کسی بھی فریق سے جو معاہدے کیئے ہیں ان کی تعمیل ضروری ہو گی لیکن بد قسمتی سے اس معاہدے پر دستخط کے بعد اس سے انحراف کیا گیا ہے‘۔ محمود عباس کے مطابق: ’اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب ہم سلامتی کونسل کے سامنے گئے تو پتہ چلا کہ یورپی ملکوں کو ماحول قومی حکومت کے لیئے سازگار نظر نہیں آتا۔ افسوس یہ ہے کہ ہم جہاں سے چلے تھے ایک بار پھر وہیں پہنچ گئے ہیں‘۔ حماس کا کہنا ہے کہ وہ اسرئیل سے جنگ بندی تو کر سکتی ہے لیکن اسے تسلیم نہیں کر سکتی۔ حماس نے جنوری میں ہونے والے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد فلسطینی انتظامیہ سنبھالی تھی لیکن امریکہ اور یورپی ملکوں نے اس انتخابی کامیابی کو پسند نہیں کیا جس کے بعد صدر محمود عباس اور ان کی تنظیم فتح اور حماس کو ملا کر ایک حکومت بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ |
اسی بارے میں صدر کا بیان، حماس کاردعمل22 September, 2006 | آس پاس فلسطین: متحدہ حکومت بنائیں گے15 September, 2006 | آس پاس حماس، الفتح کے درمیان صلح23 April, 2006 | آس پاس حماس کا ایجنڈا پارلیمان کے سامنے27 March, 2006 | آس پاس فلسطینی انتخابات کے اہم مسائل05 January, 2006 | آس پاس اسرائیل کو تسلیم کریں گے: عباس19 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||