صدر کا بیان، حماس کاردعمل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی صدر محمود عباس اور منتخب حماس اہلکاروں میں حکومت سازی کا عمل اس بات پر پھر آ کر اٹک گیا ہے آیا اسرائیل کو تسلیم کیا جائے گا یا نہیں۔ صدر محمود عباس نےجمعرات کو اقوام متحدہ سے خطاب میں کہا تھا کہ حماس کے ساتھ بنائی گئی متحدہ حکومت کے لیئے اسرائیل کو تسلیم کرنا اور تشدد کو رد کرنا ضروری ہوگا۔ لیکن حماس کے ایک سیینئر اہلکار احمد یوسف نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کو سرکاری طور پر تسلیم نہیں کر سکتا اور وہ صرف یہودی ریاست کے ساتھ دس سالہ فائر بندی پر راضی ہو سکتا ہے۔ حماس نے فلسطینی انتظامیہ میں جنوری میں ہونے والے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔ اب صدر محمود عباس اور ان کی تنظیم فتح حماس کے ساتھ حکومت بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ حماس کے اقتدار میں آنے کے بعد یورپی یونین اور بین الاقوامی ادروں نے فلسطینی علاقوں کو امداد روک دی تھی جس کی وجہ سے وہاں مالی بحران پیدا ہو گیا۔ صدر عباس نے اقوام متحدہ میں کہا تھا کہ وہ فلسطینی رہنما یاسر عرفات اور اسرائیلی وزیر اعظم ربین کے 1993 کے ان تاریخی بیانات کے مطابق کام کرنا چاہیں گے جس میں علاقے میں امن قائم کرنے کا مستقل حل ہو اور اسرائیل کے ساتھ ایک فلسطینی ریاست کا وجود ممکن ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کی نئی قومی حکومت کی کوشش ہوگی کہ وہ خطے میں قانون کی بالادستی اور سلامتی قائم کرے اور علاقے میں تشدد کی فضا اور دیگر مسلح گروہوں کو ختم کر دے۔ صدر عباس نے یہ باتیں سلامتی کونسل کے مشرق وسطی کے صورتحال پر غور کرنے کے لیئے اجلاس سے پہلے کہیں۔ تاہم اس کے جواب میں حماس کے ترجمان احمد یوسف نے کہا کہ ’حماس کا نظریاتی موقف اسے کسی ایسی حکومت کا حصہ نہیں ہونے دیتی جو اسرائیل کو تسلیم کرے ۔‘ |
اسی بارے میں حماس، الفتح کے درمیان صلح23 April, 2006 | آس پاس حماس کا ایجنڈا پارلیمان کے سامنے27 March, 2006 | آس پاس فلسطینی انتخابات کے اہم مسائل05 January, 2006 | آس پاس اسرائیل کو تسلیم کریں گے: عباس19 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||