غزہ انسانی بحران کے دہانے پر: یو این | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ اور انٹرنیشنل ریڈ کراس نے متنبہ کیا ہے کہ حماس حکومت پر اسرائیل اور مغرب کے امدادی اداروں کی جانب سے عائد کردہ کئی ماہ کی اقتصادی پابندیوں کے باعث غزہ کی پٹی میں صورتحال بحران کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔ اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ برائے خوراک کے مطابق غزہ کی نصف سے زیادہ آبادی کا اب انحصار صرف امدادی خوراک پر ہے۔ فی الوقت غزہ میں خوراک کا اتنا ذخیرہ موجود ہے جو وہاں کی ایک تہائی آبادی کے لیئے صرف ایک ماہ تک کے لیئے کافی ہوگا۔ گزشتہ جنوری میں فلسطین میں حماس کی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد امدادی ممالک نے احتجاجاً فلسطین کی امداد بند کردی تھی۔ انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ غزہ کے لوگوں میں اس صورتحال پر شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ غزہ کی دو تہائی آبادی اس وقت غربت کی سطح سے نیچے گزارہ کررہی ہے۔ پانی اور بجلی کی شدید قلت ہے۔ لوگوں کو اب اپنے پاس موجود تھوڑی بہت رقم بہت زیادہ احتیاط سے خرچ کرنی پڑ رہی ہے کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ یہ رقم ختم ہونے کے بعد صورتحال بدترین ہوجائے گی۔
بچوں کے سکول کا نیا سال شروع ہونے پر لوگوں کے پاس اتنے پیسے ہی نہیں کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیمی ضروریات پوری کرسکیں۔ عالمی ادارہ خوراک کی کرسٹین برتھیوم کے مطابق لوگوں کی پہنچ مشکل سے صرف بنیادی اشیاء تک ہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’لوگوں کے پاس بہت کم خوراک باقی بچی ہے۔ لوگ زیادہ تر ٹماٹر اور روٹی پر گزارہ کررہے ہیں۔ ہمارے پاس دو لاکھ بیس ہزار کی آبادی کے لیئے ایک ماہ کی مناسب خوراک بھی نہیں ہے۔ اگر فلسطین کی معیشت میں بہتری نہ آئی تو انسانی بحران زیادہ دور نہیں۔ فلسطینی معیشت تباہی کے دہانے پر ہے۔‘ جنیوا میں بی بی سی کے نامہ نگار اموگن فالکس کے مطابق تجارت اور ترقیات سے متعلق اقوام متحدہ کی کانفرنس میں غزہ کی معیشت کو سہارا دینے کے لیئے فوری اقدامات کی اپیل کی گئی ہے۔ ادارے نے پیشین گوئی کی ہے کہ اس سال کے اختتام تک فلسطین کی نصف آبادی بے روز گار ہوجائے گی۔ کئی بنیادی سہولیات تو پہلے ہی محدود کی جاچکی ہیں۔ غزہ کی گلیاں کوڑے کچرے کے ڈھیروں سے بھری پڑی ہیں کیونکہ شعبہ صفائی کے کارکنوں کی تنخواہیں ہی نہیں ادا کی جاسکی ہیں۔ مختصر یہ کہ غزہ ایک ایسے معاشرے کی تصویر پیش کررہا ہے جو ٹوٹ پھوٹ کے بہت نزدیک ہے۔ امدادی ادارے محض امداد کی اپیل ہی کرسکتے ہیں، اس مسئلے کا حل سیاستدانوں ہی کے ہاتھ میں ہے۔ | اسی بارے میں اولمرت: محمود عباس مشکوک ہیں22 May, 2006 | آس پاس فلسطینیوں کی امداد منظور 18 June, 2006 | آس پاس جنوبی اسرائیل پر راکٹ حملے 15 June, 2006 | آس پاس حماس کی فوج غزہ کی گلیوں سے واپس26 May, 2006 | آس پاس ’حماس ایجنڈے پر نظرِ ثانی کرے‘22 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||