BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 19 September, 2006, 16:14 GMT 21:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غزہ انسانی بحران کے دہانے پر: یو این
غزہ کی ایک تہائی آبادی کے لیئے صرف ایک ماہ کی خوراک موجود ہے
اقوام متحدہ اور انٹرنیشنل ریڈ کراس نے متنبہ کیا ہے کہ حماس حکومت پر اسرائیل اور مغرب کے امدادی اداروں کی جانب سے عائد کردہ کئی ماہ کی اقتصادی پابندیوں کے باعث غزہ کی پٹی میں صورتحال بحران کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔

اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ برائے خوراک کے مطابق غزہ کی نصف سے زیادہ آبادی کا اب انحصار صرف امدادی خوراک پر ہے۔ فی الوقت غزہ میں خوراک کا اتنا ذخیرہ موجود ہے جو وہاں کی ایک تہائی آبادی کے لیئے صرف ایک ماہ تک کے لیئے کافی ہوگا۔

گزشتہ جنوری میں فلسطین میں حماس کی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد امدادی ممالک نے احتجاجاً فلسطین کی امداد بند کردی تھی۔

انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ غزہ کے لوگوں میں اس صورتحال پر شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔

غزہ کی دو تہائی آبادی اس وقت غربت کی سطح سے نیچے گزارہ کررہی ہے۔ پانی اور بجلی کی شدید قلت ہے۔ لوگوں کو اب اپنے پاس موجود تھوڑی بہت رقم بہت زیادہ احتیاط سے خرچ کرنی پڑ رہی ہے کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ یہ رقم ختم ہونے کے بعد صورتحال بدترین ہوجائے گی۔

غزہ کی ابتر ہوتی صورتحال
فی الوقت لوگ اپنے پیسے صرف خوراک اور ادویات پر ہی خرچ کررہے ہیں تاکہ کم سے کم میں زیادہ سے زیادہ گزارہ ممکن ہوسکے۔
ادارے نے پیشن گوئی کی ہے کہ اس سال کے اختتام تک فلسطین کی نصف آبادی بے روز گار ہوجائے گی۔
کئی بنیادی سہولیات تو پہلے ہی محدود کی جاچکی ہیں۔ غزہ کی گلیاں کوڑے کچرے کے ڈھیروں سے بھری پڑی ہیں کیونکہ شعبہ صفائی کے کارکنوں کی تنخواہیں ہی نہیں ادا کی جاسکی ہیں۔
اقوام متحدہ

بچوں کے سکول کا نیا سال شروع ہونے پر لوگوں کے پاس اتنے پیسے ہی نہیں کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیمی ضروریات پوری کرسکیں۔ عالمی ادارہ خوراک کی کرسٹین برتھیوم کے مطابق لوگوں کی پہنچ مشکل سے صرف بنیادی اشیاء تک ہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’لوگوں کے پاس بہت کم خوراک باقی بچی ہے۔ لوگ زیادہ تر ٹماٹر اور روٹی پر گزارہ کررہے ہیں۔ ہمارے پاس دو لاکھ بیس ہزار کی آبادی کے لیئے ایک ماہ کی مناسب خوراک بھی نہیں ہے۔ اگر فلسطین کی معیشت میں بہتری نہ آئی تو انسانی بحران زیادہ دور نہیں۔ فلسطینی معیشت تباہی کے دہانے پر ہے۔‘

جنیوا میں بی بی سی کے نامہ نگار اموگن فالکس کے مطابق تجارت اور ترقیات سے متعلق اقوام متحدہ کی کانفرنس میں غزہ کی معیشت کو سہارا دینے کے لیئے فوری اقدامات کی اپیل کی گئی ہے۔ ادارے نے پیشین گوئی کی ہے کہ اس سال کے اختتام تک فلسطین کی نصف آبادی بے روز گار ہوجائے گی۔

کئی بنیادی سہولیات تو پہلے ہی محدود کی جاچکی ہیں۔ غزہ کی گلیاں کوڑے کچرے کے ڈھیروں سے بھری پڑی ہیں کیونکہ شعبہ صفائی کے کارکنوں کی تنخواہیں ہی نہیں ادا کی جاسکی ہیں۔

مختصر یہ کہ غزہ ایک ایسے معاشرے کی تصویر پیش کررہا ہے جو ٹوٹ پھوٹ کے بہت نزدیک ہے۔ امدادی ادارے محض امداد کی اپیل ہی کرسکتے ہیں، اس مسئلے کا حل سیاستدانوں ہی کے ہاتھ میں ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد