’حماس ایجنڈے پر نظرِ ثانی کرے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پی ایل او نے حماس پر زور دیا ہے کہ جنوری میں بھاری اکثریت سے کامیابی کے بعد حماس کے لیئے ضروری ہے کہ وہ اپنے سیاسی پروگرام پر نظرِ ثانی کرے۔ پی ایل او کے رہنماؤں نے حماس کے اس فیصلے پر بھی تنقید کی ہے کہ اس نے پی ایل او کی اس پیشکش کو بھی ٹھکرا دیا ہے جس کے تحت پی ایل او نے فلسطینیوں کی سب سے بڑی نمائندہ جماعت کی روایتی حیثت کا مطالبہ کیا تھا۔ دیگر فلسطینی دھڑوں کے برخلاف حماس نے پی ایل او میں شمولیت سے انکار کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد حماس کے سیاست دانوں کا کہنا تھا کہ ہفتے کو پارلیمان کا اجلاس ہوگا جس میں نئی کابینہ کی منظوری دی جائے گی۔ وزارتِ خارجہ کے لیئے حماس کے نمائندے محمود ظاہر کا کہنا ہے کہ پی ایل او کا بیان بے محل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت حماس سے کوئی بھی کسی بھی قسم کا کوئی مطالبہ نہیں کر سکتا۔ حماس نے گزشہ ہفتے صدر محمود عباس کو اپنے وزارء کی ایک فہرست دی تھی۔ وزارء کی اس فہرست میں ٹیکنوکریٹ بھی شامل ہیں لیکن اس میں زیادہ تعداد حماس کے ارکان کی ہے۔ یہ فہرست حماس کی کسی بھی گروپ کو اقتدار میں شامل کرنے پر ناکام ہونے کے بعد تیار کی گئی ہے۔ توقع ہے کہ حماس کے وزراء کی فہرست کے تمام نام فلسطینی قانون ساز کونسل میں منظور ہو جائیں گے جہاں ایک سو بتیس ارکارن میں چوہتر ارکان حماس کے ہیں۔ پارلیمان میں حماس بلاک کے ایک ترجمان صالح البرداوی کا کہنا ہے کہ اسلامی گروپ کے رہنماؤں نے صدر محمود عباس سے ملاقات کی ہے جس میں یہ فیصلہ ہوا تھا کہ پارلیمان کا اجلاس اختتامِ ہفتہ پر ہوگا۔ | اسی بارے میں حماس کی حکومت میں نہیں: فتح18 March, 2006 | آس پاس حکومت کا قیام، حماس کی کوششیں13 March, 2006 | آس پاس غزہ جھڑپوں میں سات زخمی20 March, 2006 | آس پاس غزہ کے تجارتی رستے بھی بند18 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||