انسانی ڈھال نے حملہ روک دیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمالی غزہ میں اسرائیل نے ایک گھر پر فضائی حملے کی دھمکی واپس لے لی ہے۔ اسرائیلی دھمکی کے بعد اس گھر کے ارد گرد سینکڑوں فلسطینی انسانی ڈھال بن کر جمع ہوگئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوج نے محمد برود کو اپنے گھر سے چلے جانے کی دھمکی دی تھی جسک ے بعد انہوں نے ایک مسجد میں پناہ لی تھی تاہم ان کے سینکڑوں عزیزو اقارب ان کے گھر کا دفاع کرنے کے لیئے اس کے چاروں طرف جمع ہو گئے تھے۔ اسرائیلی فوج اکثر کسی مکان پر حملے سے پہلے اس کے مکینوں کو چلے جانے کے لیے کہتی ہے اور پھر فضائی حملے کے ذریعے ان کے گھر تباہ کر دیے جاتے ہیں۔ اسرائیلی ان حملوں کا یہ جواز دیتے ہیں کہ ان مکانوں کو اسلحہ چھپانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ حماس کے ایک کمانڈر کا کہنا ہے کہ ان فلسطینیوں کے یہاں جمع ہونے کا مقصد یہ ہے کہ وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اسرائیلی پالیسی کو ناکام بھی بنایا جاسکتا ہے۔ دو ہفتے قبل حماس کے رہنماؤں کی اپیل پر فلسطینی خواتین بیت حانون میں ایک مسجد میں جمع ہوئی تھیں جس میں پندرہ فلسطینی ’شدت پسند‘ پناہ لیے ہوئے تھے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ان خواتین نے انسانی ڈھال کا کام کیا اور ان کی آڑ میں مسجد میں چھپے ہوئے لوگ وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ | اسی بارے میں ’فلسطینیوں کو ڈھال نہ بنایا جائے‘06 October, 2005 | آس پاس بیت حانون جنازوں میں ہزاروں شرکاء09 November, 2006 | آس پاس شمالی غزہ میں اسرائیلی بمباری28 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||