عراق سےفوج واپس نہیں بلاؤں گا: بش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے کہا ہے کہ وہ عراق میں اپنی حکمت عملی پر غور کے لیے تیار ہیں لیکن وہ کسی صورت عراق سے فوجوں کو واپس بلانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ نیٹو ممالک کی سربراہ کانفرنس میں شرکت سے تھوڑی دیر پہلے لیٹویا یونیورسٹی سے خطاب کے دوران امریکی صدر نے کہا کہ وہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ان کا عراق سے امریکی فوجیوں کو مشن کی کامیابی تک واپس بلانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ عراق میں حکمت علمی کے بارے میں وہ سننے کے لیے تیار ہیں لیکن وہ عراق مشن کی کامیابی تک وہاں سے فوج کو واپس بلانے سے متعلق کسی تجویز کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ امریکی صدر نے کہا کہ وہ اس رائے سے متفق نہیں ہیں کہ عراق میں خانہ جنگی شروع ہو چکی ہے۔ اس سے پہلے عراق میں امریکی فوجی کے ترجمان میجر جنرل ولیم کالڈویل نے کہا کہ عراق میں فرقہ وارانہ تشدد میں اضافہ ضرور ہوا ہے جس سے صورتحال خراب ہے لیکن وہ فوج کی خانہ جنگی سے متعلق تعریف پر پورا نہیں اترتی۔ ادھر امریکی بااثر اخبار نیویارک ٹائمز نے خبر شائع کی ہے کہ ایران کی حمایت یافتہ لبنانی ملیشیا حزب اللہ نے عراق کی مہدی ملیشیا کے ایک ہزار سے دو ہزار کے قریب جنجگجوؤں کو تربیت دی ہے۔ اس سے پہلے امریکی صدر نے کہا کہ افغانستان میں کامیابی کے لیے نیٹو کو وہاں مزید فوج بھیجنے کی ضرورت ہے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں فوج کی تعیناتی کے حوالے سے جرمنی پر خاص طور سے نکتہ چینی ہوتی رہی ہے کیونکہ اس کے فوجی دستے قدر کم کشیدگی والے شمالی افغانستان میں ہیں جبکہ زیادہ ضرورت جنوبی علاقے میں ہے جہاں طالبان سرگرم ہیں اور وہاں وہ اپنی فوجیں تعینات نہیں کر رہا ہے۔ نیٹو کے سیکریٹری جنرل جاپ ڈی ہوپ شیفر نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ دو ہزار آٹھ تک ملک کی سلامتی کے امور افغانستان کی سکیورٹی کے حوالے کر دیۓ جائیں گے۔ | اسی بارے میں نیٹو کی توسیع‘ روس کی تشویش02 April, 2004 | صفحۂ اول نیٹو کی فوج افغانستان میں11 August, 2003 | صفحۂ اول نیٹو: یورپ سے افغانستان کیسے پہنچے؟11 August, 2003 | صفحۂ اول مزید نیٹو فوج کوسوو روانہ18 March, 2004 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||