امن امریکی فوج کی واپسی سے:ایران | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای نے عراق کے صدر کے ساتھ ملاقات میں کہا ہے کہ عراق کی صورتحال میں بہتری کے لیے امریکیوں کو وہاں سے جانا ہوگا۔ آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ عراق میں عدم استحکام سے پورے خِطے پر اثر پڑتا ہے اور امریکہ اس میں بہتری نہیں لا سکتا۔ عراق کے صدر کا دورہ گزشتہ چالیس سال میں کسی بھی عراقی سربراہ مملکت کی طرف سے ایران کا پہلا دورہ ہے۔ صدر طالبانی فارسی زبان بھی بول سکتے ہیں۔ عراق کے صدر طالبانی اپنے ملک میں فرقہ واریت پر قابو پانے میں مدد کے لیے ایران کے دورے پر آئے ہیں۔ امریکہ بھی ایران کو شامل کرنا چاہتا ہے لیکن یہ نہیں معلوم کہ کس قیمت پر۔ لیٹویا میں نیٹو کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے جاتے ہوئے صدر بُش نے کہا کہ ایران کے مذاکرات اسی صورت میں ہوں گے کہ وہ یورینیم کی افژودگی کا پروگرام معطل کر دے اور اس بات کی تصدیق کی بھی سہولت فراہم کرے۔ عراق کے صدر نے پیر کو ایرن کے صدر محمود احمدی نژاد سے ملاقات کی تھی جنہوں نے کہا تھا کہ ایران اس سلسلے میں جو بھی ہو سکا کرے گا۔ احمدی نژ|د نے اصرار کیا کہ مستحکم، ترقی پسند اور طاقتور عراق پورے خطے اور ایران کے مفاد میں ہے۔ ایران کے ریاستی ٹی وی نے عراق کے صدر سے منسوب ایک بیان میں کہا کہ عراق کو سلامتی اور امن و امان کے قیام کے لیے ایران کی مدد کی شدید ضرورت ہے۔ | اسی بارے میں طالبانی نے ایران سے مدد مانگ لی27 November, 2006 | آس پاس ’عراق خانہ جنگی کے دہانے پر ہے‘27 November, 2006 | آس پاس عراق کے صدر کو ایران کی دعوت21 November, 2006 | آس پاس عراق کے لئے اہم سنگ میل: بش06 November, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||