’عراقی حالات صدام دور سے بدتر ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کی موجودہ صورتحال خانہ جنگی سے بھی ’زیادہ خراب، ہے۔ یہ بات اقوام متحدہ کے موجودہ سیکڑیری جنرل کوفی عنان نے بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہی۔ کوفی عنان کا، جو کہ دس سال تک اقوام متحدہ کے سیکڑیری جنرل رہنے کے بعد 31 دسمبر کو اپنے عہدے سے سبکدوش ہو رہے ہیں، کہنا ہے کہ ایک عام عراقی کی زندگی اب اس زندگی سے کہیں بدتر ہے جو صدام دور حکومت میں تھی۔ اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہ وہ عراق کو اس جنگ سے نہ بچا سکے، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ علاقائی اور بین الاقوامی طاقتیں عراق کی مدد کریں۔ انہوں نے اپنے بعد آنے والے سیکڑیری جنرل بین کی مون ، جن کا تعلق جنوبی کوریا سے ہے، پر بھی زور دیا کہ وہ اس مسئلے کو ’اپنے طریقے سے حل کریں،۔ بی بی سی کہ نامہ نگار لیز ڈوسیٹ کے اس سوال پر کہ ’ کیا عراق جس صورتحال سے دوچار ہے اسے خانہ جنگی کہا جا سکتا ہے؟‘ کہ جواب میں کوفی عنان نے عراق میں جاری قتل و غارت اور کشیدگی کی طرف اشارہ کیا کہ وہاں پر موجود قوتیں ایک دوسرے کے خلاف اپنی طاقت کا استعمال کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ چند سال پہلے لبنان اور کچھ اور جگہوں پر کشیدگی کو ہم نے خانہ جنگی کا نام دیا تھا لیکن عراق کی صورتحال اس سے کہیں زیادہ خراب ہے۔ کوفی عنان نے کہا کہ پورے مشرق وسطٰی کی صورتحال ہمارے لیے بہت پریشان کن ہے۔ انہوں نے عراق اور لبنان میں جاری کشیدگی کے ساتھ اسرائیل، فلسطین اور ایران کا بھی حوالہ دیا۔ اپنے انٹرویو میں انہوں نے یہ بات بھی تسلیم کی کہ 2003 میں عراق پر امریکی حملے کو نہ روک سکنا ان کی بہت بڑی ناکامی ہے اور اقوام متحدہ اب جا کر اس کے اثرات سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ ہمارے زخم آہستہ آہستہ بھر رہے ہیں۔ لیکن ابھی تک وہ اپنی تنظیم میں اس ناکامی کے باعث کشیدگی محسوس کرتے ہیں‘۔ | اسی بارے میں جارحیت ختم کی جائے: جنرل اسمبلی18 November, 2006 | آس پاس امریکہ عراق میں پھنس چکا ہے: عنان22 November, 2006 | آس پاس ’عراق خانہ جنگی کے دہانے پر ہے‘27 November, 2006 | آس پاس عراقی صورتِ حال کو کیا کہا جائے؟27 November, 2006 | آس پاس لگاتار تین کار بم حملے، 50 ہلاک02 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||