BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 18 November, 2006, 14:02 GMT 19:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جارحیت ختم کی جائے: جنرل اسمبلی
 بیت حانون
کوفی عنان سے بیت حانون پر اسرائیلی بمباری کی تفتیش کرنے کو کہا گیا ہے
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھاری اکثریت سے ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں اسرائیل اور فلسطینیوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر جارحیت ختم کریں۔

امریکہ نے گزشتہ ہفتے ایک ایسی ہی قرارداد کو ویٹو کرنے کے بعد آج کی قرارداد کے مسودے کو بھی مسترد کر دیا ہے۔

جارحیت سے جنرل اسمبلی کی مراد غزہ کی پٹی میں اسرائیلی کارروائیاں اور فلسطینیوں کی جانب سے اسرائیل پر راکٹ باری ہے۔

قرارداد میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان سے کہا گیا ہے کہ وہ حال ہی میں غزہ کے قصبے بیت حانون میں اسرائیلی بمباری کی تفتیش بھی کریں۔

واضح رہے کہ سکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے برعکس جنرل اسمبلی کی قراردوں کی اہمیت اس لحاظ سے کم ہوتی ہے کہ ان پر عمل درآمد ضروری نہیں ہوتا۔

قرارداد کے مسودے میں کئی تبدیلیوں کے بعد یورپی یونین کے رکن ممالک سمیت تقریباً ایک سو چھپن ملکوں نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیے۔ سات ملکوں نے قرارداد کی مخالفت میں ووٹ دیے جن میں امریکہ، اسرائیل اور آسٹریلیا شامل ہیں جبکہ چھ ارکان نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

جنرل اسمبلی میں رائے شماری ایک ہنگامی اجلاس کے اختتام پر ہوئی جو قطر کی درخواست پر بلایا گیا تھا۔ سیکورٹی کونسل میں امریکہ کی جانب سے ویٹو کر دینے والی قرارداد بھی قطر نے ہی پیش کی تھی۔

اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈین گلرمین نے جنرل اسمبلی کے اجلاس کو ایک ’سرکس‘ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ قرارداد کے مسودے میں حماس کا ذکر کیوں نہیں ہے۔

ڈین گلرمین کا کہنا تھا کہ قرارداد میں ’دہشتگردی‘ اور ’دہشتگردی ختم کرنے کے لیئے اپنے دفاع میں لیئے جانے والے اسرائیلی اقدامات‘ کو ایک ہی نظر سے دیکھا گیا ہے۔

اقوام متحدہ میں امریکہ کے سفیر جان بولٹن نے کہا کہ قرارداد میں منظور کیئے جانے والے اقدادمات مددگار ثابت نہیں ہو سکتے۔ ’بدقسمتی سے اس قسم کی قرارداد سے اس تناؤ کو تقویت ملے گی جس کا مقصد ان عناصر کے مفادات کو پورا کرنا ہے جو اسرائیل کے زندہ رہنے کے مسلمہ حق کے خلاف ہیں۔‘

جان بولٹن کے مطابق ’اس قسم کی قراردادوں سے اقوام متحدہ کے خلاف شکوک مزید گہرے ہوتے ہیں جس سے کئی لوگ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ ادارہ مشرق وسطٰی میں کوئی مددگار کردار ادا نہیں کر سکتا۔‘

اقوام متحدہ میں فلسطینی مبصر ریاض منصور نے جنرل اسمبلی کی جانب سے حمایت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ قرارداد کے ذریعے اسرائیل کو ایک ’اہم پیغام‘ بھیجا گیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ بیت حانون میں اسرائیلی گولہ باری سے انیس بےگناہ فلسطینیوں کی ہلاکت کے بعد یورپ اور مشرق وسطٰی کے ممالک کی طرف سے اسرائیل کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اسی بارے میں
بیت حانون پر حملہ، 18 ہلاک
08 November, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد