BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 12 November, 2006, 05:59 GMT 10:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ویٹو: عرب دنیا کی امریکہ پر تنقید
بیت حانون
اسرائیلی بمباری سے ہلاک ہونے والی ایک تین سالے بچی کا جنازہ لے جایا جا رہا ہے
سلامتی کونسل میں اسرائیل کے خلاف قرار داد ویٹو کرنے پر عرب ممالک امریکہ پر تنقید کر رہے ہیں اور غزہ میں حملے کرنے پر اسرائیل کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔
امریکہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ پر اسرائیلی حملے کے خلاف ایک اور قرار داد ویٹو کر دی تھی اور اقوام متحدہ میں امریکہ کے سفیر جان بولٹن نے قرار داد کے مسودے کو غیر متوازن قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

قرار داد کا مسودہ بدھ کو غزہ کے علاقے بیت حانون پر اسرائیلی بمباری کے واقعے کے بعد پیش کیا گیا تھا۔ اسرائیل کے اس حملے میں انیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔

فلسطینی اتھارٹی کے ایک ترجمان غازی حماد نے کہا ہے کہ امریکی ویٹو نے امریکہ کو مزید حملوں کی راہ دکھائی ہے۔

سلامتی کونسل کے پندرہ میں سے دس ارکان نے اس قرار داد کی حمایت کی۔ جب کے چار نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ رائے شماری میں حصہ نہ لینے والے ممالک میں برطانیہ، ڈنمارک، جاپان اور سلواکیہ شامل تھے۔

اقوام متحدہ میں بی بی سی کی نامہ نگار لورا ٹریویلین کا کہنا ہے کہ امریکہ اسرائیل کے خلاف سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی قرار دادوں کو ویٹو کرنے کی ایک طویل تاریخ رکھتا ہے اور اس کا موقف ہے کہ اسرائیل کے خلاف پیش کی جانے والی قرار دادیں تعصب پر مبنی ہوتی ہیں۔

تاہم قطر کی جانب سے پیش کی جانے والی قرار داد کو اسلامی اور غیر جانبدار ملکوں کی حمایت حاصل تھی اور اس میں غزہ سے اسرائیلی افواج کے انخلا کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اس قرارداد میں یہ مھالبہ بھی کیا گیا تھا کہ بیت حانون پر اسرائیلی بمباری کی تحقیقات کے لیے اقوا متحدہ کے سکریٹری جنرل ایک کمیشن تشکیل دیں۔

اقوام متحدہ میں فرانس کے سفیر ژاں مارک ڈی لا سیب لیخ نے قرار داد کے بارے میں کہا ہے کہ قرار داد متوازن تھی اور خطے میں قیامِ امن کے لیے اس قرار داد کا منظور ہونا ضروری تھا۔

اقوام متحدہ میں فلسطینی مندوب ریاض منصور نے کہا ہے کہ ’اس قرار داد کے منظور4 نہ ہونے سے اسرائیلی انتہا پسندوں کو یہ پیغام ملا ہے کہ وہ قانون کی گرفت سے بالا ہیں اور اپنی جارحیت جاری رکھ سکتے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’دوسرا پیغام اس قراداد کی نامنظوری سے فلسطینی عوام کو دیا گیا ہے کہ سلامتی کونسل انصاف اور عدل کا ساتھ دینے سے کترا رہی ہے‘۔

فلسطینی خاتون20 سے زائد ہلاک
غزہ میں اسرائیلی کارروائی میں ہلاکتیں
اسی بارے میں
بیت حانون پر حملہ، 18 ہلاک
08 November, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد