BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 27 November, 2006, 23:41 GMT 04:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراقی صورتِ حال کو کیا کہا جائے؟

این بی سی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اب عراق کے حالات کو ’خانہ جنگی‘ کہے گا
امریکی میڈیا میں کچھ عرصے سے یہ بحث جاری رہی ہے کہ عراق میں بڑھتے ہوئے فرقہ وارانہ تشدد کو اور وہاں کے حالات کو کس طرح بیان کیا جائے، انہیں کیا کہا جائے؟

میڈیا کی اکثریت بغداد میں روز کے قتلِ عام کو خانہ جنگی سے تعبیر کرنے سے گریز کرتی رہی ہے۔ لیکن بغداد میں تشدد کی تازہ ترین اور گذشتہ ساڑھے تین برس کی بدترین لہر نے امریکی میڈیا میں کافی لوگوں کو مجبور کیا ہے کہ وہ اپنی اس پالیسی پر نظرِ ثانی کریں۔

اس کی تازہ مثال اس ہفتے امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کا یہ اعلان ہے وہ اب سے عراق کے حالات کو باقاعدہ طور پر ’خانہ جنگی‘ کہیں گے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ فیصلہ بیٹھے بٹھائےنہیں بلکہ خاصی اندرونی ادریاتی مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔ اہم امریکی اخبار لاس اینجلس ٹائمز اور اور بعض مقامی امریکی اخبارات اس سے پہلے ہی عراق کو خانہ جنگی کا شکار قرار دے چکے ہیں۔

پیر کو اپنے ایک تازہ بیان میں اقوامِ متحدہ کے سیکٹری جنرل کوفی عنان نے بھی خبردار کیا کہ اگر عراق کے تیزی سے بگڑتے ہوئے حالات کو سنبھالنے کے لئے فوری طور پر بڑے پیمانے کے اقدامات نہیں کئے گئے تو ملک خانہ جنگی کے دہانے پہنچ جائے گا۔ نیویارک میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کوفی عنان نے اقرار کیا عراق ’تقریباً خانہ جنگی‘ کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔

جارج بش تسلیم کرتے ہیں کہ عراق کے حالات تشویش ناک ہیں۔ لیکن بش انتظامیہ اس بات سے مسلسل انکاری ہے کہ عراق میں آئے دن کے خون خرابے کو خانہ جنگی قرار دیا جا سکتا ہے۔

پیر کو واشنگٹن میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے اخباری بریفگ میں ترجمان شان مکارمک نے کہا کہ عراق کے حالات کو سب سے بہتر طور پر عراق کے وزیرِ اعظم نوری المالکی جانتے ہیں اور ان کی نظر میں موجودہ حالات کو خانہ جنگی نہیں قرار دیا جا سکتا۔

مبصرین کے نزدیک امریکی حکومت کی طرف سے یہ مان لینا کہ عراق خانہ جنگی کا شکار ہو گیا ہے، اس بات کا اقرار ہوگا کہ بش انتظامیہ وہاں ناکامی سے دوچار ہوئی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ عراق پر صدر بش کی چڑھائی کا حمایتی امریکی میڈیا بغداد میں جاری خون ریزی کو خانہ جنگی کہنے سے مکمل طور پر گریزاں ہے اور وال سٹریٹ جرنل اور فوکس نیوز جیسے قدرے محبِ وطن امریکی ذرائع ابلاغ خون خرابے کے ان حالات کے لئے اب بھی ’تنازع‘، ’لڑائی‘ اور ’جنگ‘ جیسی اصطلاحات استعمال کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد