بغداد پر ایک اور بدترین حملہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمعرات کو بغداد کے شیعہ اکثریت علاقے صدر سٹی میں سلسلہ وار خودکش کار بم اور مارٹر حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تدفین کا سلسلہ جمعہ کوجاری رہا۔ پولیس کے مطابق اس حملے میں دو سو سے زائد افراد ہلاک اور تقریبًا ایک سو پچاس زخمی ہوئے ہیں۔ اس حملے کو سن دو ہزار تین میں بغداد میں امریکی فوجی مداخلت کے بعد بدترین حملہ کہا جارہا ہے۔ صدر سٹی پر حملوں کے بعد کچھ سنی اکثریت کے علاقوں پر انتقامی حملے بھی ہوئے لیکن یکجہتی کی علامت کے طور پر شیعہ، سنی اور کردستانی سیاستدانوں نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔
اس موقع پر ایک سنی رہنماء طارق الحاشمی نے کہا کہ ’تمام رہنماء گہری تشویش کے ساتھ بغداد کی خراب ہوتی ہوئی امن و امان کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ہم تشدد اور دہشت گردی کے ذریعے معصوم عراقیوں کے قتل کی سخت مذمت کرتے ہیں۔‘ بغداد میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اگر مقتدہ الصدر کے حامی کابینہ اور پارلیمان سے علیحدہ ہوجاتے ہیں تو یہ عراقی حکومت کے لئے ایک بڑا دھچکہ ہوگا۔ اُدھر عراق میں تشدد کے تازہ ترین واقعات میں شمالی شہر تلعفر میں کیے جانے والے خودکش حملوں میں بائیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ اس کے علاوہ بغداد کے شمال مشرق میں واقع شہر بعقوبہ میں پولیس نے بتایا ہے کہ مشتبہ مزاحمت کاروں نے شیعہ عالم مقتدہ الصدر کی تحریک کے دفتر پر حملہ کیا ہے۔ | اسی بارے میں عراق: خود کش حملہ: 22 ہلاک19 November, 2006 | آس پاس عراق کے صدر کو ایران کی دعوت21 November, 2006 | آس پاس امریکہ عراق میں پھنس چکا ہے: عنان22 November, 2006 | آس پاس اکتوبر میں عراق میں ریکارڈ ہلاکتیں22 November, 2006 | آس پاس 132 ہلاکتوں کے بعد بغداد میں کرفیو23 November, 2006 | آس پاس بغداد میں فرقہ وارانہ تشدد جاری23 November, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||