اکتوبر میں عراق میں ریکارڈ ہلاکتیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اس سال ماہ اکتوبرکے مہینے میں عراق میں فرقہ وارانہ ہلاکتوں کی تعداد نے پچھلے سارے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس ماہ تقریباً 3700 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والے 3709 میں سے بیشتر فرقہ وارانہ فسادات کی نذر ہوئے۔ اس سے قبل جولائی میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی تھیں تاہم اس مرتبہ جولائی کا ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا اور جولائی کی نسبت مزید 200 افراد موت کے منہ میں چلے گئے۔ بغداد میں صورتحال بدترین بتائی جاتی ہے تاہم رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد کو روز بروز نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ عراق کی وزارت صحت کے اعداد و شمار پر مبنی ہے۔ رپورٹ کے مطابق عراق کی شہری آبادی ان فرقہ وارانہ فسادات کا نشانہ بن رہی ہے۔ سڑکوں کے کنارے نصب بموں کا پھٹنا، اغوا، گولی مار کر ہلاک کرنا اور دو مخالف گروہوں کے تصادم یا پولیس مقابلے، فوجی آپریشن اور پولیس کی بدسلوکی اور تشدد کا شکار ہونے والے زیادہ تر افراد عام شہری ہی ہیں۔ رپورٹ میں ان لاشوں کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جن کی شناخت نہیں ہو پاتی اور جن کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ستمبر اور اکتوبر کے دوران 3253 ایسی لاشیں برآمد ہوئی ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ’موت کے ٹولوں‘ کا شکار ہوئی ہیں جو پولیس کے تعاون سے مختلف علاقوں میں سرگرداں ہیں۔ ساتھ ہی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خواتین کی حالت زار بھی بگڑتی جارہی ہے۔ انہیں مذہبی شدت پسندی یا غیرت کے نام پر قتل کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اغوا اور جنسی زیادتی کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ ملک میں ہلاکتوں، اغوا وغیرہ کی اصل تعداد معلوم کرنا بھی ایک بڑا چیلنج ہے جہاں مزاحمت کاری اور فرقہ وارانہ فسادات تحقیقات کاروں کی زندگی کے لیئے بھی خطرے کا باعث ہیں۔ | اسی بارے میں بغداد میں پولیس کو 83 لاشیں ملیں 04 November, 2006 | آس پاس عراق میں ہلاکتیں 100000: وزیر10 November, 2006 | آس پاس بغداد حملے: 20 ہلاک 50 اغوا12 November, 2006 | آس پاس عراق: اغواء شدہ ملازمین رہا14 November, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||