بغداد حملے: 20 ہلاک 50 اغوا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی دارالحکومت اور نواح میں کم از کم 20 افراد ہلاک اور پچاس سے کے قریب اغوا کر لیے گئے ہیں۔ عراقی پولیس کا کہنا ہے کہ جنوبی بغداد میں مسلح افراد نے منی بسوں پر حملے کر کے کم از کم بارہ مسافروں کو ہلاک اور تقریباً پچاس کو اغوا کر لیا۔پولیس نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ منی بسوں پر یہ حملے یوسفیہ میں کیے گئے ہیں جسے ایسے سنی مسلمانوں کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے جو شیعہ مسلمانوں اور امریکی فوجیوں پر حملوں کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ منی بسوں کو نگرانی کی غرض سے روکا گیا تھا اور یہ چیک پوسٹ جعلی تھی۔ اس واقعے سے پہلے وسطی بغداد کی ایک مارکیٹ میں ہونے والے ایک دھماکے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہو گئے۔ بغداد کا یہ بازار تھوک بیوپار کی وجہ سے مشہور ہے اور اس سے پہلے بھی کئی بار حملوں کا نشانہ بن چکا ہے۔ اس بازار میں بموں کے دو دھماکے ہوئے جو بیک وقت کار بم کے ذریعے کیے گئے۔ |
اسی بارے میں 655000 عراقی ہلاک ہوئے: سروے11 October, 2006 | آس پاس عراق:’بد عنوانی سےاربوں کانقصان‘09 November, 2006 | آس پاس صدام حسین کو پھانسی کی سزا05 November, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||