BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 23 November, 2006, 22:28 GMT 03:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فرقہ وارانہ تشدد میں دو سو ہلاک
بغداد
بغداد میں دھماکے پندرہ منٹ کے وقفے سے ہوئے
عراقی دارالحکومت بغداد میں شیعہ اکثریتی علاقوں میں جمعرات کو دھماکوں کے نتیجے میں دو سو افراد کی ہلاکت کے بعد فرقہ وارانہ ہنگاموں کے دوران اب تک سنی مسلک کی چار مساجد پر حملہ کیا جا چکا ہے۔

بغداد میں جمعرات سے نافذ کرفیو کے باوجود سنی اکثریتی علاقے الحریہ میں واقع ایک مسجد کو آگ لگا کر مکمل طور پر مسمار کردیا گیا ہے جبکہ ایک پر راکٹ باری کی گئی ہے اور دو پر گولیوں کی بوچھاڑ۔

حکومت نے جمعرات کو صدر سٹی کے علاقے میں سلسلہ وار بم دھماکوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تجہیزوتکفین کے لیے کرفیو میں نرمی کی تھی۔

ادھر عراق کی حکومت میں موجود شیعہ رہنماء مقتدہ الصدر کے حامیوں نے وزیراعظم نورالمالکی کو دھمکی دی ہے کہ اگر انہوں نے امریکی صدر جارج بش سے ملاقات کی تو وہ کابینہ اور پارلیمان سے مستعفی ہو جائیں گے۔

نوری المالکی اور صدر بش کے درمیان اگلے ہفتے طے شدہ پروگرام کے تحت ملاقات متوقع ہے۔ مقتدہ الصدر کے حامیوں کا کہنا ہے کہ عراق میں موجود امریکی فوجیوں کو جمعرات کو صدر سٹی میں ہونے والی ہلاکتوں کا ذمہ دار قرار دیا جائے۔

ادھر جمعہ کو ملک کے جنوبی شہر موصل میں دو خود کش حملوں میں بائیس افراد ہلاک اور چھبیس زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس کے ذرائع نے بتایا ہے کہ ایک خود کش حملہ آور کار میں سوار تھا جبکہ دوسرے نے دھماکہ اپنے جسم پر لگے بم سے کیا۔

جمعرات کو ہونے والے سلسلہ وار دھماکے عراق پر امریکی حملے کے بعد سے ہونے والے تشدد کے واقعات میں دہشت گردی کی ایک سنگین ترین واردات تھی۔

اطلاعات کے مطابق ہلاکتیں شیعہ اکثریت والے علاقے صدر سٹی میں تین دھماکوں کے نتیجے میں ہوئیں۔

جمعرات کو پہلا دھماکہ مقامی وقت کے مطابق تین بجے جمیلہ مارکیٹ میں ہوا جہاں بارود سے بھری ایک کار زور دار دھماکے سے پھٹ گئی۔ اس کے بعد پندرہ منٹ کے وقفے سے دو اور دھماکے ہوئے۔

دھماکوں کے بعد زخمیوں کو بڑی تعداد میں ہسپتالوں میں لایا گیا۔
پولیس کے مطابق دھماکوں کے علاوہ صدر سٹی کے علاقے میں کئی مارٹر گولے بھی فائر کیے گئے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے فوٹو گرافر کریم الربیعی کے مطابق جس وقت دھماکے ہوئے اس وقت وہ بازار سے خریداری کر رہے تھے۔

’جیسے ہی دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، ہر کسی نے چیخ و پکار کے ساتھ ساتھ ادھر اُدھر بھاگنا شروع کر دیا۔‘

’میں نے بارات کے لیے پھولوں اور ربنوں سے سجی ہوئی ایک کار کو جلتے دیکھا۔

یہ دھماکے مقامی بس اڈے کے قریب ہوئے جہاں بڑی تعداد میں مسافروں اور لوگوں کا ہجوم تھا۔ گلی میں ہر طرف خون ہی خون تھا اور بچوں کی لاشیں زمین پر پڑی دکھائی دے رہیں تھیں۔‘

خبر رساں ادارے اے پی نے اطلاع دی ہے کہ ان دھماکوں کے بعد مشتعل شیعہ افراد اور مسلح شدت پسند سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے سنی مسلمانوں کے خلاف نعرے بازی کی۔

بغداد میں ہی کچھ مسلح افراد نے وزارت صحت کی عمارت پر بھی حملہ کیا جہاں حملہ آوروں اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔

بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق دھماکوں کے لیے اہداف کو بڑی سوچ و بچار کے بعد منتخب کیا گیا۔ نامہ نگار کے مطابق ایک مصروف چوراہے، فوڈ مارکیٹ اور ایک بس سٹینڈ کا بظاہر اس لیے انتخاب کیا گیا تاکہ زیادہ سے زیادہ جانی نقصان ہو۔

اسی بارے میں
بغداد حملے: 20 ہلاک 50 اغوا
12 November, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد