BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 23 November, 2006, 15:38 GMT 20:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
132 ہلاکتیں، بغداد میں کرفیو
بغداد
بغداد میں دھماکے پندرہ منٹ کے وقفے سے ہوئے
عراقی دارالحکومت بغداد میں جمعرات کو شیعہ اکثریتی علاقے صدر سٹی میں سلسلہ وار دھماکوں میں کم از کم ایک سو بتیس افراد کی ہلاکتوں کے بعد شہر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔۔

پولیس اور ہپستالوں کے ذرائع نے ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک سو بتیس بتائی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد دو سو زیادہ ہے۔ حکام نےایک سو پندرہ افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے تاہم کچھ اطلاعات کے مطابق مرنے والوں کی تعداد دو سو کے قریب ہے۔

دھماکوں کی تفصیلات ابھی تک نامکمل ہیں تاہم یہ اموات تین کار بم دھماکوں کے نتیجے میں ہوئیں ہیں۔

عراق پر امریکی حملے کے بعد سے ہونے والے تشدد کے واقعات میں یہ دہشت گردی کی ایک سنگین ترین واردات تھی جس کا نشانہ شیعہ اکثریتی صدر سٹی کا علاقہ تھا۔

پہلا دھماکہ مقامی وقت کے مطابق تین بجے جمیلہ مارکیٹ میں ہوا جہاں بارود سے بھری ایک کار زور دار دھماکے سے پھٹ گئی۔ اس کے بعد پندرہ منٹ کے وقفے سے دو اور دھماکے ہوئے۔

یہ دھماکے مقامی بس اڈے کے قریب ہوئے جہاں بڑی تعداد میں مسافروں اور لوگوں کا ہجوم تھا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے کی جگہ کے اردگر شہریوں کی جلی ہوئی مسخ شدہ لاشیں بکھری ہوئی تھیں۔

خبر رساں ادارے اے پی نے اطلاع دی ہے کہ ان دھماکوں کے بعد مشتعل شیعہ افراد اور مسلح شدت پسند سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے سنی مسلمانوں کے خلاف نعرے بازی کی۔

بغداد میں ہی کچھ مسلح افراد نے وزارت صحت کی عمارت پر بھی حملہ کیا جہاں حملہ آوروں اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔

اسی بارے میں
بغداد حملے: 20 ہلاک 50 اغوا
12 November, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد