رویہ بدلیں، ہم مدد کو تیار ہیں: ایران | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے کہا ہے ایران امریکہ اور برطانیہ کی مدد کے لیے تیار ہے بشرطیکہ یہ دونوں ممالک اپنا رویہ تبدیل کریں اور عراق سے اپنی فوجیں واپس بلا لیں۔ نوجوانوں کی ایک ریلی سے خطاب کے دوران ایرانی صدر نے امریکہ اور برطانیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں ’اپنے مجرمانہ عمل اور شر پر مبنی غلبے‘ کی پالیسی کو خیرباد کہہ دیں۔ تہران میں بی بی سی کی نامہ نگار فرانسس ہیریسن نے اپنے مراسلے میں بتایا ہے کہ یونیفارم پہنے ہوئے نوجوان سلامی دیتے ہوئے صدر احمد نژاد کے سامنے سے شہدا کے نقشِ قدم پر چلنے کا عزم گنگناتے ہوئے گزر رہے تھے۔ بسیج کے موقع پر جسے حرکتِ عمل کا ہفتہ بھی کہا جاتا ہے ایرانی صدر نے اپنی دھواں دار تقریر میں امریکہ اور برطانیہ کو کڑی ترین تنقید کا نشانہ بنایا۔ صدر احمدی نژاد نے کہا: ’میری آپ کو نصیحت ہے کہ اپنے مجرمانہ عمل کو روک دو۔ اپنے غیر انسانی رویے کو ترک کردو۔ بے شرم اور قاتل صیہونیوں کی حمایت چھوڑ دو اور عراقیوں کو اپنا زیرِ دست رکھنے سے باز آجاؤ۔‘ ایرانی صدر نے بارہا یہ بات کہی کہ برطانیہ اور امریکہ کو چاہیے کہ وہ اس خطے سے نکل جائیں کیونکہ غیر ملکیوں کی موجودگی سے یہاں خرابیاں جنم لے رہی ہیں، لوگ تقسیم ہورہے ہیں اور نزاعی حالات کا دور دورہ ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہر کسی کو چاہیے کہ وہ امریکہ اور برطانیہ کی شیطانیوں اور سازشوں سے خبردار رہے۔ البتہ صدر احمدی نژاد نے یہ بھی کہا کہ ایران امریکہ اور برطانیہ کی مدد کرنے کو تیار ہے تاکہ وہ عراق میں جس دلدل میں پھنس چکے ہیں وہاں سے نکل جائیں لیکن یہ اسی صورت ممکن ہوگا اگر یہ دونوں ممالک اپنا رویہ تبدیل کریں۔ اگرچہ ایرانی صدر کی تقریر میں شعلہ فشانی بہت تھی لیکن ان کا پیغام کم و بیش وہی تھا جو صدر بش کا تھا یعنی امریکہ ایران سے اسی صورت بات کرنے پر تیار ہوگا اگر ایران اپنا رویہ بدل لے۔ صدر بش نے کہا تھا کہ ایران کو چاہیے کہ مذاکرات کے آغاز سے قبل وہ اپنا جوہری پروگرام روک دے جبکہ برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر نے کہا تھا کہ پہلے ایران دہشت گردی کی حمایت کرنا چھوڑے۔ | اسی بارے میں ’شام اورایران اپنا کردار ادا کریں‘13 November, 2006 | آس پاس بلیئر: ایران اور شام بات کی جائے13 November, 2006 | آس پاس شام اورایران سے کوئی نرمی نہیں14 November, 2006 | آس پاس احمدی نژاد شام کے دورے پر19 January, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||