عراق: دوسرے روز بھی تشدد جاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں تشدد کے مختلف واقعات میں سات فوجیوں سمیت تیس سے زائد افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ گزشتہ روز دو دھماکوں میں ستر افراد ہلاک جبکہ 220 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔ بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ملک میں تشدد کی کارروائیاں غیر معمولی طور پر بڑھ رہی ہیں اور بغداد میں اس وقت حالت یہ ہے کہ ایک دن میں کم سے کم پچاس پرتشدد واقعات ہو رہے ہیں۔ بدھ کو پہلا کار بم دھماکہ بغداد کے شیعہ اکثریتی علاقے میں ہوا جس میں پندرہ افراد ہلاک جبکہ 25 زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ دھماکہ بغداد کے قریبی علاقے کمالیہ کی ایک مسجد کے قریب ہوا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے عام شہری ہیں اور ان میں زیادہ تعداد مزدوروں کی ہے جو کام کی تلاش میں وہاں موجود تھے۔ بم دھماکوں کے بعد عراقی ایک جگہ جمع ہونے سے کترانے لگے ہیں کیونکہ خودکش حملہ آور کام کی تلاش میں سرگرم مزدورں کو جھوٹی ملازمت کی پیشکش کرکے وہاں دھماکہ کردیتے ہیں۔ تاہم نامہ نگار کا کہنا ہے کہ کام کے متلاشی اب بھی خطرے سے دور نہیں ہیں کیونکہ مزدور پھر جمع ہوں گے۔ بدھ کو ہی جنوبی شہر کرکوک سے ساٹھ کلو میٹر دور ریاض نامی قصبے میں واقع فوجی اڈے پر ہونے والے خودکش حملے میں سات فوجی ہلاک ہو گئے۔ دو خودکش حملہ آوروں نے ٹرک فوجی اڈے سے ٹکرا دیا۔ ایک اطلاع کے مطابق یہ فوجی اس علاقے میں واقع تیل کی تنصیبات پر تعینات تھے۔ بغداد کے جنوبی حصے میں واقع قصبے حسنہ میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک شیعہ خاندان کے نو افراد کو گھر میں گھس کر گولیاں مار کر ہلاک کردیا۔ عراق میں تشدد کے بڑھتے واقعات کی وجہ سے امریکہ پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ عراق کے بارے میں اپنی پالیسیوں میں تبدیلیاں کرے۔ تاہم منگل کو وائٹ ہاؤس کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ نئے سال کے آغاز تک امریکہ عراق پر اپنی پالیسیاں تبدیل نہیں کرے گا۔ توقع ہے کہ صدر بش کرسمس سے قبل اس حوالے سے ایک تقریر کریں گے۔ |
اسی بارے میں ’عراق سٹڈی گروپ رپورٹ نامنظور‘10 December, 2006 | آس پاس کربلا بم دھماکہ، چھ افراد ہلاک09 December, 2006 | آس پاس ’عراقی اپنے مسائل خود حل کریں‘05 December, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||