بغداد: مرنے والوں کی تعداد 70 | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی دارالحکومت بغداد میں منگل کو ہونے والے دو کار بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ستر ہوگئی ہے۔ ان واقعات میں دو سو بیس سے زائد لوگ زخمی ہوئے تھے۔ یہ دھماکے ایک ہی وقت کیے گئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں بیشتر غریب شیعہ مسلمان ہیں۔ ایک مزدور کا کہنا تھاکہ دھماکوں کی آواز اتنی شدید تھی کہ لوگ وہاں کھڑے نہ رہ سکے۔ دھماکوں کے بعد فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں لیکن یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ فائرنگ کس نے کی۔ اس کے علاوہ کچھ چھوٹے دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔ عراقی پولیس کا کہنا ہے کہ بغداد کے طیران سکوائر پر ہونے والے دھماکوں میں 150 کلو گرام وزنی دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔ دھماکے مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجے اس وقت ہوئے جب سکوائر میں کام کی تلاش میں سرگرم مزدوروں کی بڑی تعداد موجود ہوتی ہے۔ پولیس کے مطابق ایک گاڑی کو خودکش حملہ آور چلا رہا تھا جبکہ دوسری گاڑی شہر کے مصروف علاقے میں کھڑی کی گئی تھی۔ جوگاڑی وہاں کھڑی تھی اس سے اعلان ہو رہا تھا کہ مزدور آکر وہاں کام کا پتہ کر سکتے ہیں۔ پولیس کے مطابق ان حملوں کا نشانہ پولیس کے دستے اور ان مزدوروں کا ہجوم تھا جو وہاں کام کی تلاش میں آئے تھے۔ وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ کام کے مواقع کے اعلان سے لوگ موقع پر اس طرح پہنچ رہے تھے جیسے ’ شہد پر مکھیاں۔‘ دھماکوں میں کم سے کم دس مزید گاڑیاں بھی تباہ ہو گئیں۔ یہ دھماکے طیران سکوائر میں ہوئے جو کہ گرین زون کے احاطے کے قریب ہے جہاں سرکاری عمارتوں کے علاوہ برطانوی اور امریکی سفارتخانے واقع ہیں۔ |
اسی بارے میں ’عراق سٹڈی گروپ رپورٹ نامنظور‘10 December, 2006 | آس پاس کربلا بم دھماکہ، چھ افراد ہلاک09 December, 2006 | آس پاس ’عراقی اپنے مسائل خود حل کریں‘05 December, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||