’عراق سٹڈی گروپ رپورٹ نامنظور‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی صدر جلال طالبانی نےعراق کے بارے میں عراق سٹڈی گروپ کی رپورٹ کو رد کرتے ہوئے کہا کہ اس رپورٹ کی کچھ سفارشات عراق کی خود مختاری کے نفی کرتی ہیں۔ جلال طالبانی کا ردعمل ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمز فیلڈ اپنے عہدے سے دستبردار ہونے سے کچھ دن پہلے عراق کے دورے پر پہنچے ہیں۔ جلال طالبانی نے عراق سٹڈی گروپ کی سفارشات آنے سے گروپ کی حمایت کی تھی لیکن وہ اس کی سفارشات سے بلکل متفق نہیں ہیں۔ عراقی صدر نے عراق سٹڈی گروپ کے اس سفارش پر برہمی کا اظہار کیا جس میں امریکی حکومت سے سفارش کی گئی ہے کہ اگر عراقی حکومت اپنی کارکردگی میں بہتری لانے میں ناکام رہے تو اس کی امداد بند کر دی جانے چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عراق سٹڈی گروپ عراق کو امریکہ کی کالونی سمجھتا ہے ۔ عراقی صدر نے صدام حسین کے دور کے عہدیداروں کو حکومت میں شامل کی بھی مخالفت کی۔ جلال طالبانی نے کہا کہ بعث پارٹی کے عہدیداروں کوحکومت میں واپس لانا عراقی لوگوں کی جدوجہد کی نفی ہوگی۔ ادھر ڈونلڈ رمزفیلڈ نےعراق میں صوبہ انبار میں بارہ سو امریکی فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عراق سے امریکی فوجوں کا انخلا اس وقت تک نہیں ہونا چاہیے جب تک دشمن کو مکمل شکست نہ ہو جائے۔ ڈونلڈ رمزفیلڈ اٹھارہ دسمبر کو اپنے عہدے سے دستبردار ہو جائیں گے اور ان کی جگہ رابرٹ گیٹس نئے وزیر دفاع کا عہدہ سنھبالیں گے۔ | اسی بارے میں رپورٹ ’جادوئی فارمولا‘ نہیں06 December, 2006 | آس پاس ’امریکہ جنگ جیت نہیں رہا‘05 December, 2006 | آس پاس ’ہمسایوں کو نظر انداز نہیں کر سکتے‘05 December, 2006 | آس پاس ’عراقی اپنے مسائل خود حل کریں‘05 December, 2006 | آس پاس امریکی فضائی حملے میں20 عراقی ہلاک08 December, 2006 | آس پاس ’رپورٹ حقیقت پر مبنی نہیں‘09 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||