BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 09 December, 2006, 04:54 GMT 09:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’رپورٹ حقیقت پر مبنی نہیں‘
مسعود بارزانی نے رپورٹ کو عراق آئین سے متصادم قرار دیا
عراق میں کردوں کے رہنما مسعود بارزاني نے امریکہ میں جاری کردہ بیکر ہیملٹن رپورٹ کو ’غیر حقیقت پسندانہ اور نامناسب‘ قرار دیا ہے۔

مسعود بارزاني نے عراق سڈی گروپ کی اس رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے عراق کے ہمسایہ ملکوں ایران اور شام سے عراق میں حالات بہتر کرنے کے لیے مذاکرات کرنے کی تجویز پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔ وہ کردوں کی خودمختاری کم کرنے کی بات سے متفق نہیں ہیں۔

مسعود بارزانی کی بات کی تائید عراق کے کرد صدر جلال طالبانی نے بھی کی ہے۔

اس سے قبل عراق میں امریکی فوج کے ایک کمانڈر نے کہا کہ عراق سے سن دوہزار آٹھ کے شروع میں عراق سے کچھ امریکی فوج کو واپس بلایا جاسکتا ہے۔

عراق سٹڈی رپورٹ
 گروپ کے ارکان نے رپورٹ مرتب کرنے سے پہلے عراق کے شمالی کرد علاقوں کا دورہ نہیں کیا جو اس رپورٹ میں ایک بڑی کمزوری ہے۔
مسعود بارزانی

تاہم امریکی کمانڈر لیفٹینٹ جنرل پیٹر چیئریلی نے کہا کہ عراق سے امریکی فوج کا انخلاء اسی صورت میں حقیقت پسندانہ ہو گا جب عراق میں مختلف گروہوں کے درمیان سیاسی مصالحت ہو جائے۔

امریکی صدر بش بھی رپورٹ کے اجراء کے بعد یہ بات کہہ چکے ہیں کہ عراق میں نئی حکمت عملی وضح کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم انہوں نے بات بھی واضح طور پر کہہ دی ہے کہ عراق سٹڈی گروپ کی طرف سے تمام تجاویز پر وہ عملدرآمد نہیں کریں گے۔

کردوں کی طرف سے اس رپورٹ پر ردعمل میں مسعود بارزاني نے کہا کہ کرد اس رپورٹ کے پابند نہیں ہیں۔

مسعود بارزاني نے کہا کہ اس گروپ کے ارکان نے رپورٹ مرتب کرنے سے پہلے عراق کے شمالی کرد علاقوں کا دورہ نہیں کیا جو اس رپورٹ میں ایک بڑی کمزوری ہے۔

انہوں نے رپورٹ میں عراق کی مرکزی حکومت کو مضبوط کرنے پر تنقید کی اور کہا کہ یہ تجویز وفاقیت کے اور آئین کے اصولوں سے متصادم ہے جن پر نئے عراق کی تعمیر نو ہونی ہے۔

انہوں نے رپورٹ کو نامناسب قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ کسی ایسی تجویز کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں جو آئین کے منافی ہو اور جو عراقی اور کرد عوام کے مفادات کے خلاف ہو۔

صدر جلال طالبانی کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ رپورٹ کی کئی تجاویز عراقی حکومت کی پالیسی سے مطابقت نہیں رکھتیں۔

صدر بش نے امریکی کانگرس کے ارکان سے ملاقات میں کہا ہے کہ وہ دونوں جماعتوں کے ارکان کے مشورے سے عراق کے معاملے پر نئی راہ تلاش کریں گے۔

اسی بارے میں
’فوری بات چیت ممکن نہیں‘
07 December, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد