امریکہ: عراق پالیسی پر رپورٹ آج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مخلتف سیاسی جماعتوں کے ارکان پر مشتمل ’عراق سٹڈی گروپ‘ عراق میں امریکی پالیسی پر اپنی رپورٹ پیش کرنے والا ہے۔ اس رپورٹ کا خاصے عرصے سے انتظار کیا جا رہا ہے۔ ادھر منگل کوامریکہ کے نئے نامزد وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا ہے کہ امریکہ عراق میں جیت نہیں رہا ہے۔ زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ سٹڈی گروپ اپنی رپورٹ میں جو سفارشات پیش کرے گا ان میں اگلے اٹھارہ ماہ کے اندر عراق سے امریکی فوجوں کی مرحلہ وار واپسی سرفہرست ہوگی۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ گروپ عراق پر ایک علاقائی کانفرنس کی سفارش بھی کرے گا جس میں ایران اور شام کی شرکت کی سفارش ہوگی۔ نامزد وزیر دفاع اور عراق سٹڈی گروپ کے سابق رکن رابرٹ گیٹس نے بھی اس سلسلہ میں کہا کہ وہ عراق کے بارے میں نئی سفارشات کا خیر مقدم کریں گے تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ عراق کی موجودہ صورتحال آنے والے برسوں میں مشرق وسطیٰ پر گہرے اثرات چھوڑے گی۔
عراق سٹڈی گروپ کی سربراہی امریکہ کے سابق وزیرحارجہ جیمز بیکر کر رہے ہیں۔ اس دوران صدر جاج بُش نے عندیہ دیا ہے کہ وہ گروپ کی سفارشات کا بغور مطالعہ کریں گے لیکن ضروری نہیں کہ وہ ان پر عمل بھی کریں۔ دس رکنی عراق سٹڈی گروپ میں امریکہ کے سابق مشہور پالیسی ساز اور بین الاقوامی امور کے ماہریں شامل ہیں۔ گروپ نے رپورٹ پر کام کا آغاز اس سال اپریل میں کیا تھا۔ ذرائع ابلاغ تک پہنچنے والی خبروں کے مطابق رپورٹ میں عراق میں امریکی فوجوں کی تعداد ایک لاکھ چالیس ہزار سے نصف کرنے کی سفارش کی جائے گی۔ اس کے علاوہ عراق میں فوج کے کردار میں تبدیلی کی سفارش بھی کی جائے اور اسے جنگ کی بجائے بدل کر مدد کا کردار ادا کرنے کی سفارش کی جائے گی۔ توقع ہے کہ رپورٹ کی خاص بات یہ ہوگی کہ اس میں عراق سے فوجوں کی واپسی اور ان کے کردار میں تبدیلی کے لیئے ایک باقائدہ نظام الاوقات پر زور دیا جائے گا۔ یہ وہ مسئلہ ہے جس پر صدر بُش ہمیشہ یہ کہہ کر انکار کرتے رہے ہیں کہ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو اس سے عراقی انتظامیہ کی بجائے دہشگردوں کو مدد ملے گی۔ رپورٹ میں اتنی ہی زیادہ متنازعہ ایک اور مسئلہ بھی ہوگا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق رپورٹ میں کہا جائے گیا کہ عراق میں مزاحمت ختم کرنے کے لیئے امریکہ کو چاہیے کہ وہ خطے میں ’بدی کے محور‘ ملکوں، یعنی ایران اور عراق سے بھی بات چیت کرے۔ عراق سٹڈی گروپ نے اپنی رپورٹ کی تشکیل کے دوران ایک سو ستر افراد سے بات کی ہے جن میں عراقی رہنماؤں، صدر بُش، برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر، امریلی اور عراق سفارتکاروں کے علاوہ عراق کے پڑوسی ممالک کے سینئر اہلکار بھی شامل ہیں۔ | اسی بارے میں ’عراقی حالات صدام دور سے بدتر ہیں‘04 December, 2006 | آس پاس ’عراقی اپنے مسائل خود حل کریں‘05 December, 2006 | آس پاس رمزفیلڈ کی جگہ باب گیٹس08 November, 2006 | آس پاس صدر بش شیعہ لیڈر سے ملیں گے02 December, 2006 | آس پاس اردن میں بش اور المالکی کی ملاقات 29 November, 2006 | آس پاس ایران پر صدر بش کی شدید تنقید27 October, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||