’فوری بات چیت ممکن نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر بش نے کہا ہے کہ ایران اور شام اگر یہ چاہتے ہیں کہ عراق کے مسئلے پر ان سے بات چیت کی جائے تو وہ انتہا پسندوں کی مدد کرنا بند کر دیں اور خود مختار عراقی حکومت کی حمایت کریں۔ یہ بات انہوں نے وائٹ ہاوس میں وزیر اعظم ٹونی بلیئر کے ساتھ بات چیت کے بعد کہی۔تاہم دونوں رہنماؤں کا کہنا تھا کہ عراق کے مسئلے کے حل کے لیے شام اور ایران کے ساتھ فوری مذاکرات کا کوئی امکان نہیں ہے۔ عراق سڈی گروپ کی رپورٹ کو ٹونی بلیئر نے خوش آیند قرار دیا ہے اور رپورٹ کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے اسرائیل اور فلسطین کے مسئلے کا حل نکالنا بھی بہت ضروری ہے۔ عراق سڈی گروپ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ عراق کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایران اور شام سے بات چیت کا آغاز کیا جائے لیکن صدر بش اس سلسلے میں کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہتے۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ عراق کے مسئلے کے حل کے لیے انہیں نئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے اس بات سے بھی اتفاق کیا ہے کہ عراق کی صورتحال ’مشکل اور بہت بڑا چیلنج ہے‘۔ لیکن انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ مشرقِ وسطٰی کے لوگوں کو اب یہ انتخاب کرنا ہے کہ انہیں سیکولرزم چاہیے، یا پھروہ مذہبی آمریت چاہتے ہیں اور یا وہ چاہتے ہیں کہ ان کے ملک میں بھی مغرب کی طرح جمہوریت ہو۔ ایران اور شام کے ساتھ عراق کے مسئلے پر مشاورت کی تجاویز پر دونوں رہنماؤں نے کہا ہے کہ ان دونوں ملکوں کا موقف اس سلسلے میں واضح ہونا چاہیے کہ وہ عراق میں جمہوری حکومت چاہتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی وہ دہشت گردی کی حمایت بھی ختم کر دیں گے۔ عراق سڈی گروپ کے تجزیے کے مطابق بش انتظامیہ کی عراق کے مسئلے پر پالیسی تکلیف دہ ہے اور وہاں پر صورتحال ’روز بروز بگڑتی‘ جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ یہ تنبیہ کی گئی ہے کہ ’وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے‘۔ نامہ نگاروں کے سامنے صدر بش نے تسلیم کیا ہے ’عراق میں صورتحال بہت خراب ہے‘۔
لیکن اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ عراق میں جاری تشدد ’غلط منصوبہ بندی‘ کا نتیجہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عراق میں تشدد کی حمکت عملی جان بوجھ کر اپنائی گئی ہے۔ یہ بیرونی انتہا پسندوں کا ملک کے اندر موجود انتہا پسندوں کے ساتھ مل جانے کا نتیجہ ہے تاکہ وہ نفرت پھیلا سکیں اور ایک ایسی جمہوریت کو، جس میں فرقہ واریت نہ ہو، شروع ہونے سے پہلے ہی ختم کر سکیں‘۔ صدر بش کا کہنا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ عراق میں آزادی اور امن بحال کرنے کے لیے اپنا کام جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ٹونی بلیئر اسرائیل اور فلسطین کے درمیان کشدیگی ختم کرنے کا حل نکالنے کے لیے بہت جلد مشرق وسطٰی کا دورہ کریں گے۔ | اسی بارے میں کوفی عنان کے بیان پر صدمے کا اظہار04 December, 2006 | آس پاس ’عراق اپنے مسائل خود حل کرے‘05 December, 2006 | آس پاس ’عراقی حالات صدام دور سے بدتر ہیں‘04 December, 2006 | آس پاس رپورٹ ’جادوئی فارمولا‘ نہیں06 December, 2006 | آس پاس ’عراقی اپنے مسائل خود حل کریں‘05 December, 2006 | آس پاس امریکہ: عراق پالیسی پر رپورٹ آج06 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||