تجاویز’فروٹ سلاد‘ نہیں: بیکر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے بارے میں امریکی پالیسی کا مطالعہ کرنے والے ’عراق سٹڈی گروپ‘ کے سرکردہ ارکان نے صدر جارج بُش پر گروپ کی تمام سفارشات پر عمل کرنے کے لیے زور دیا ہے۔ اس سلسلہ میں گروپ کے سربراہ اور سابق وزیر خارجہ جیمز بیکر اور ان کے ساتھی لی ہیملٹن نے امریکی سینٹ سے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں جیمز بیکر نے کہا کہ انہوں نے جو انہتر تجاویز پیش کی ہیں وہ کوئی پھلوں کا سلاد نہیں کہ جس میں سے امریکی انتظامیہ جو چاہے لے لے جو چاہے چھوڑ دے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی تجاویز ان تمام مسائل کا ایک جامع حل پیش کرتی ہیں جو امریکہ کو عراق اور دیگر مشرق وسطٰی میں درپیش ہیں اس لیے تمام کی تمام تجاویز کواکٹھا قبول کیا جانا چاہیے۔ اس بارے میں واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ لگتا ہے کہ صدر بُش جیمز بیکر کے اس استدلال سے متاثر نہیں ہوں گے کیونکہ لگتا ہے کہ صدر بُش گروپ کی دو اہم تجاویز کو پہلے ہی رد کر چکے ہیں، یعنی عراق سے امریکی فوجوں کی واپسی میں تیزی اور شام اور ایران کے ساتھ غیر مشروط براہ راست مذاکرات۔ امریکی صدر کا ردعمل اب تک بہت حوصلہ افزاء نہیں ہے اور انہوں نے یہ واضح کردیا ہے کہ نہ تو وہ اور ان کی انتظامیہ اور نہ ہی امریکی کانگریس اس رپورٹ کی تمام سفارشات ماننے کے پابند ہیں۔ صدر بش کا کہنا ہے کہ ایران اور شام کو اپنا راستہ منتخب کرنا ہے۔ ’اگر وہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آنا چاہتے ہیں تو یہ تو بڑا آسان ہے۔ان کو کچھ فیصلے کرنا ہوں گےجو امن میں مدد دیں نہ کہ جنگ اور لڑائی میں۔‘ | اسی بارے میں ’فوری بات چیت ممکن نہیں‘07 December, 2006 | آس پاس رپورٹ ’جادوئی فارمولا‘ نہیں06 December, 2006 | آس پاس رپورٹ ’جادوئی فارمولا‘ نہیں06 December, 2006 | آس پاس ’امریکہ جنگ جیت نہیں رہا‘05 December, 2006 | آس پاس ’عراق اپنے مسائل خود حل کرے‘05 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||