BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 06 December, 2006, 13:14 GMT 18:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
رپورٹ ’جادوئی فارمولا‘ نہیں
اس وقت عراق میں امریکی فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ چالیس ہزار ہے
وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ مخلتف سیاسی جماعتوں کے ارکان پر مشتمل ’عراق سٹڈی گروپ‘ کی رپورٹ کے مطابق عراق کا مسئلہ حل کرنے کے لیے ’کوئی جادوئی‘ فارمولا نہیں ہے۔

سٹڈی گروپ کی رپورٹ وصول کرنے پر امریکی صدر جاج بش نے کہا کہ یہ ’ عراق میں صورتحال کی ایک سخت تشخیص‘ ہے۔

رپورٹ ابھی تک عام قارئین تک نہیں پہنچی ہے تاہم امریکی ٹی وی ’اے بی سی‘ نے اس کی ممکنہ جذیات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں عراق سے امریکی فوجوں کے انخلاء کا کوئی سخت نظام الاوقات نہیں ہے۔

رپورٹ کے ’لیک‘ ہونے والے اقتباسات کے مطابق اس میں عراق کے مستقبل کے بارے میں بات چیت میں شام اور ایران کے ساتھ مذاکرات پر زور دیا جائے گا۔ ابھی تک امریکہ ان دو ممالک کے ساتھ براہ راست بات چیت کے خیال کو رد کرتا رہا ہے۔

اس سے قبل رپورٹ وصول کرنے پر اپنے ابتدائی ردعمل میں صدر بُش نے کہا کہ اس میں اچھی سفارشات پیش کی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ کی سفارشات پر ’نہایت سنجیدگی‘ سے غور کیا جائے گا۔

صدر بش نے مزید کہا ’ اس رپورٹ میں کچھ بہت اچھی سفارشات ہیں، یہ رپورٹ عراق پر پالیسی ترتیب دینے کے لیے ایک مشترکہ فورم بنانے کا موقع فراہم کرتی ہے اور ہم اس کی سفارشات پر وقت کے ساتھ ساتھ عمل کرتے رہیں گے۔‘

خاصے انتظار کے بعدسٹڈی گروپ نے بدھ کے روز اپنی رپورٹ صدر بش کو پیش کی ہے۔

بُش انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار نے کہا کہ وائٹ ہاؤس نے عراق سٹڈی گروپ کی رپورٹ کا خیر مقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ امریکی حکومت کو عراق کے بارے میں اپنی حکمت عملی پر بھرپور نظرثانی کرنے میں مدد دے گی۔

ادھر منگل کوامریکہ کے نئے نامزد وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا تھا کہ امریکہ عراق میں جیت نہیں رہا ہے۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار جیمز ویسٹ ہیڈ کا کہنا ہے کہ اگرچہ رپورٹ کی تفصیلات منظر عام پر نہیں آئی ہیں لیکن اس کے لیک ہونے والے اقتباسات میں ان باتوں کی تصدیق ہوتی ہے جو ماہرین کہہ رہے تھے۔

اے بی سی کے مطابق عراق میں ’عراق میں استحکام کے لیے نئے سفارتی اقدامات‘ کا مطالبہ کرتی ہے جن میں شام اور ایران کے ساتھ براہ راست مذاکرات شامل ہیں۔

رپورٹ کے سامنے آنے سے پہلے شام نے اپنے اس موقف کا پھر اعادہ کیا کہ وہ امریکہ سے تعاون کے لیے رضامند ہے۔ شام کے وزیرخارجہ محسن بلال نے کہا کہ عراق کی مدد کرنا خود شام کے اپنے مفاد میں ہے اور یہ کہ ان کے ملک اور عراق سٹڈی گروپ کے ارکان کے درمیان اچھی بات چیت ہوئی ہے۔

رپورٹ کے منظر عام پر آنے سے قبل زیادہ تر لوگوں کا خیال تھا کہ سٹڈی گروپ اپنی رپورٹ میں جو سفارشات پیش کرے گا ان میں اگلے اٹھارہ ماہ کے اندر عراق سے امریکی فوجوں کی مرحلہ وار واپسی سرفہرست ہوگی۔

یہ بھی کہا جا رہا تھا کہ گروپ عراق پر ایک علاقائی کانفرنس کی سفارش بھی کرے گا جس میں ایران اور شام کی شرکت کی سفارش ہوگی۔

نامزد وزیر دفاع اور عراق سٹڈی گروپ کے سابق رکن رابرٹ گیٹس نے بھی اس سلسلہ میں کہا کہ وہ عراق کے بارے میں نئی سفارشات کا خیر مقدم کریں گے تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ عراق کی موجودہ صورتحال آنے والے برسوں میں مشرق وسطیٰ پر گہرے اثرات چھوڑے گی۔
عراق سٹڈی گروپ کی سربراہی امریکہ کے سابق وزیرحارجہ جیمز بیکر کر رہے ہیں۔

دس رکنی عراق سٹڈی گروپ میں امریکہ کے سابق مشہور پالیسی ساز اور بین الاقوامی امور کے ماہریں شامل ہیں۔ گروپ نے رپورٹ پر کام کا آغاز اس سال اپریل میں کیا تھا۔

اس سے قبل ذرائع ابلاغ تک پہنچنے والی خبروں میں کہا جا رہا تھا کہ رپورٹ میں عراق میں امریکی فوجوں کی تعداد ایک لاکھ چالیس ہزار سے نصف کرنے کی سفارش کی جائے گی۔ اس کے علاوہ عراق میں فوج کے کردار میں تبدیلی کی سفارش بھی کی جائے اور اسے جنگ کی بجائے بدل کر مدد کا کردار ادا کرنے کی سفارش کی جائے گی۔

توقع ہے کہ رپورٹ کی خاص بات یہ ہوگی کہ اس میں عراق سے فوجوں کی واپسی اور ان کے کردار میں تبدیلی کے لیئے ایک باقائدہ نظام الاوقات پر زور دیا جائے گا۔ یہ وہ مسئلہ ہے جس پر صدر بُش ہمیشہ یہ کہہ کر انکار کرتے رہے ہیں کہ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو اس سے عراقی انتظامیہ کی بجائے دہشگردوں کو مدد ملے گی۔

رپورٹ میں اتنی ہی زیادہ متنازعہ ایک اور مسئلہ بھی ہوگا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق رپورٹ میں کہا جائے گیا کہ عراق میں مزاحمت ختم کرنے کے لیئے امریکہ کو چاہیے کہ وہ خطے میں ’بدی کے محور‘ ملکوں، یعنی ایران اور عراق سے بھی بات چیت کرے۔

عراق سٹڈی گروپ نے اپنی رپورٹ کی تشکیل کے دوران ایک سو ستر افراد سے بات کی ہے جن میں عراقی رہنماؤں، صدر بُش، برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر، امریلی اور عراق سفارتکاروں کے علاوہ عراق کے پڑوسی ممالک کے سینئر اہلکار بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں
رمزفیلڈ کی جگہ باب گیٹس
08 November, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد