’ہمسایوں کو نظر انداز نہیں کر سکتے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے نائب وزیر اعظم اور عراق کے انتہائی بااثر سیاست دان برھم صالح نے کہا ہے کہ صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد عراقیوں نے ضرورت سے زیادہ ہی امریکیوں پر انحصار کیا ہوا ہے۔ برھم صالح نے کہا ہے کہ امریکیوں پر ضرورت سے زیادہ انحصار کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ عراق اپنے ہمسایہ ملکوں کو بھول گیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ عراقی حکومت کو چاہیے کہ وہ امریکیوں کے ساتھ مل کر اپنے ہمسایوں سے بات کریں۔ دریں اثناء بغداد میں تشدد کے مختلف واقعات میں کم از کم تیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ مسلح افراد نے اس بس پر گولیاں برسائیں جس میں شیعہ مساجد کے منتظمین سوار تھے۔ اس واقعہ میں پندرہ افراد ہلاک ہوئے جبکہ اس واقعے کے بعد تین کار بم دھماکے بھی ہوئے جس میں مزید پندرہ افراد ہلاک ہوئے۔ تشدد کے واقعات کو روکنے کیلئے واشنگٹن میں عراق سٹڈی گروپ کی تجاویز کل باقاعدہ طور پر جارج بش کو دی جا رہی ہیں۔ بی بی سی کے تجزیہ نگار نک چائیلڈز کا کہنا ہے کہ شاید عام خیال یہ ہے کہ امریکہ عالباً عراق سے اپنی فوج کا انخلاء چاہتا ہے۔ تاہم بی بی سی کے سفارتی تجزیہ نگار جوناتھن مارکس کہتے ہیں صدام حکومت کے خاتمے کے بعد خطے میں عدم توازن پیدا ہو گیا ہے اس لیئے اب امریکی فوج کا یہاں طویل عرصے تک ٹھہرنا پڑے گا۔ نک چائیلڈز کا کہنا ہے کہ ماضی میں طے شدہ پالیسی پر ہونے والی جتنی بھی باتیں ہوتی رہی ہیں ان میں پینٹاگون نے تقریباً تمام حربے آزما لیئے ہیں۔ عراقیوں کو تربیت دے کر امریکیفوں کی جگہ تعینات کرنے سے لے کر بیس سے پچیس ہزار تک مزید امریکی فوج کی تعیناتی۔ مگر اس مرتبہ فرق یہ ہے کہ امریکہ اور عراق میں سیاسی عوامل میں بہت بڑی تبدیلی آچکی ہے۔ جوناتھن مارکس نے کہا ہے کہ عراق میں صدام حسین کی حکومت کے ختم ہونے سے خطے میں انتہائی گہرے سٹریٹجیک (دفاعی) اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ماہرین کے بقول ان میں دو ایسے اثرات ہیں جو امریکہ کیلئے نہایت منفی ہیں۔ اؤل یہ کہ اب امریکہ کو ایران سے رابط رکھنے کی ضرورت ہوگی اور دوسرے یہ کہ خطے میں استحکام برقرار رکھنے کیلئے کم از کم آئندہ کئی برسوں تک امریکہ کو اپنی فوج عراق میں رکھنا پڑے گی۔ | اسی بارے میں ’عراق اپنے مسائل خود حل کرے‘05 December, 2006 | آس پاس ’عراقی حالات صدام دور سے بدتر ہیں‘04 December, 2006 | آس پاس لگاتار تین کار بم حملے، 50 ہلاک02 December, 2006 | آس پاس ’عراقی اپنے مسائل خود حل کریں‘05 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||