’گڑبڑ افغانستان میں، نزلہ ہم پر‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں پاکستانی سفیر محمود علی درانی نے انٹرنیشنل کرائسس گروپ کی اس رپورٹ کو غلط اور بے بنیاد قرار دیا ہے جس میں افغانستان میں طالبان کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دیا گیا ہے۔ پاکستانی سفارتخانے میں اخباری کانفرنس کے دوران صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں پاکستانی سفیر نے کہا ’یہ رپورٹ ایک پروپگینڈے کا حصہ ہے۔ گڑبڑ ساری افغانستان میں ہو رہی ہے اور نزلہ پاکستان پر گرایا جا رہا ہے۔‘ انٹرنیشنل کرائسس گروپ کی اس ہفتے منظرِ عام پر آنے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومتِ پاکستان کی طرف سے پہلے جنوبی اور پھر شمالی وزیرستان میں کئے جانے والے امن معاہدوں سے قبائیلی علاقوں میں موجود مسلح شدت پسند مضبوط ہوئے ہیں اور ان کی افغانستان میں دراندازی میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ اس رپورٹ کو امریکی ذرائع ابلاغ میں نمایاں طور شائع کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متنازعہ امن معاہدوں کے بعد پاکستان کے قبائیلی علاقوں میں فوج نے مسلح شدت پسندوں کو’راضی رکھنے کے لئے‘ انہیں کھلا ہاتھ دے دیا ہے کہ وہ خود کو اور مضبوط کرنے کے لئے نئی بھرتیاں کریں اور مسلح تربیتی کیمپ چلائیں۔ افغانستان میں اس سال طالبان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی وجہ سے امریکہ اور نیٹو کی افواج ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہیں۔ بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق، اگر وقت کے ساتھ ساتھ طالبان کے حملوں میں مزید شدت آتی گئی تو مغربی اور پڑوسی ممالک بگڑتے حالات کی زیادہ سے زیادہ ذمہ داری پاکستان پر ڈالیں گے، جس سے جنرل مشرف کی حکومت پر پہلے سے موجود عالمی دباؤ مزید اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔ انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے مطابق پچھلے پانچ برسوں کے دوران جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے پہلے گولہ بارود کے زور پر اور اب سیاسی و معاشی طریقے سے قبائلی علاقوں کے حالات قابو میں کرنے کی کوشش کی ہے لیکن دونوں ہی صورتوں میں فوج کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پاکستانی سفیر محمود علی درانی نے دعویٰ کیا کہ تین ماہ قبل ستمبر میں کیے جانے والے امن معاہدے کے بعد شمالی وزیرستان کے حالات دراصل بہتر ہوئے ہیں اور زندگی معمول پر لوٹ آئی ہے۔ جب ان کی توجہ وہاں آئے دن کی لوٹ مار اور لوگوں کے سر قلم کر دینے جیسے واقعات کی طرف دلائی گئی تو انہوں نے کہا: ’ایسے اکِا دُکا واقعات ضرور ہو رہے ہیں لیکن اس سے یہ مطلب نہیں نکالنا چاہیے کہ امن معاہدہ خراب ہوگیا۔‘ پاکسنی سفیر نے مزید کہا کہ کچھ لوگ اس معاہدے کو ناکام ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن اُن کے بقول اس معاہدے کی کامیابی کے لئے سب ہی کو صبر سے کام لینا ہوگا اور کچھ مہینے اور انتظار کرنا ہوگا۔ | اسی بارے میں ’امن معاہدوں سے حملے بڑھے ہیں‘11 December, 2006 | آس پاس افغان صورتحال پر کرزئی دکھی11 December, 2006 | آس پاس افغانستان: ناامیدی میں اضافہ07 December, 2006 | آس پاس قندہارخود کش حملہ، چھ اہلکار ہلاک06 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||