BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 06 December, 2006, 07:38 GMT 12:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قندہارخود کش حملہ، چھ اہلکار ہلاک
طالبان
اس سال اب تک خود کش حملوں میں دو سو ستائیس افغانی اور سترہ غیر ملکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں
حکام اور عینی شاہدین کے مطابق افغانستان میں دو امریکیوں سمیت کم سے کم چھ افراد ایک خود کش حملے میں ہلاک ہوئے ہیں۔

اطلاعات میں بتایا جا رہا ہے کہ قندہار میں ایک خود کش حملہ آور نے سکیورٹی اہلکاروں کے قریب کھڑے ہو کرخود کو دھماکے سے اڑا دیا۔حکام کے مطابق حملے میں کئی لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

قندہار طالبان کا گڑھ سمجھا جاتا ہے اور نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ قندہار میں آئے دن دھماکوں کی وجہ سے بہت سے افغان اب اسے ’بموں کا شہر‘ کے نام سے پکارنے لگ گئے ہیں۔

قندہار افغانستان کے ان صوبوں میں سے ہے جہاں نیٹو اور امریکہ دونوں کے فوجی تعینات ہیں۔

دھماکے کی تفصیل بتاتے ہوئے سیکورٹی کمپنی کے اہلکار روح اللہ نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ حملہ آور نے سکیورٹی اہلکاروں کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ اپنے دفتر سے نکلے۔

ہلاک ہونے والے چھ افراد، جن میں دو امریکی اور چار افغانی شامل ہیں، سب کے سب سکیورٹی کمپنی کے ملازم تھے۔

جس مقام پر دھماکہ ہوا ہے وہ قندہار میں کینیڈین فوجیوں کے اڈے کے قریب ہے۔

کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار مارک ڈمٹ کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے سے قندہار میں خود کش حملوں کی ایک لہر آئی ہوئی ہے اور بدھ کا حملہ صوبے میں ان دنوں میں ہونے والا چھٹا حملہ ہے۔

منگل کو دو شہری اس وقت ہلاک ہو گئے تھے جب ایک خود کش حملہ آور نے بارود سے بھری اپنی کار نیٹو کی گاڑیوں کے قافلے میں دے ماری تھی۔

اتوار کو قندہار شہر میں کار میں سوار ایک دوسرے خود کش حملہ آور نے اپنی گاڑی برطانوی فوجی قافلے کے قریب تباہ کی تھی۔ اس دھماکے میں تین افغان شہری ہلاک جبکہ برٹش رائل میرین کے تین فوجی زخمی ہو گئے تھے۔

ایک دوسری اطلاع میں بتایا گیا ہے کہ ہلمند میں طالبان کے ساتھ دس گھنٹے تک جاری رہنے والی ایک لڑائی میں برطانوی میرین کا ایک فوجی مارا گیا ہے۔

برطانوی فوجوں کے ساتھ سفر کر رہے ایک نامہ نگار نے بتایا کہ اس لڑائی میں برطانوی فوجوں کوگمسر کے شہر سے پسپا ہو کر لوٹنا پڑا تھا۔ گمسر ابھی تک طالبان کے قبضے میں ہے۔

نیٹو کے مطابق یکم جنوری دو ہزار چھ سے اب تک خود کش حملوں میں دو سو ستائیس افغانی اور سترہ غیر ملکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد