BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 26 October, 2006, 03:29 GMT 08:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پچاس طالبان ہلاک کرنےکا دعویٰ
نیٹو افواج میں برطانوی فوجی
طالبان جنگوؤں نے کہا ہے کہ اب خود کش حملوں میں تیزی آئے گی
جنوبی افغانستان میں پھر لڑائی شروع ہو گئی ہے اور نیٹو کی افواج نے پچاس کے قریب طالبان باغیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ متعدد شہریوں کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

نیٹو کے ترجمان نے تسلیم کیا کہ جنوبی صوبے قندھار میں تین جگہوں پر جھڑپیں ہوئیں۔

تاہم طالبان کے کئی سینیئر کمانڈروں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ برطانوی افواج سے کئی محاذوں پر جنگ جیت رہے ہیں۔

ایک خصوصی انٹرویو میں طالبان کمانڈر نے بتایا کہ اب خود کش حملوں میں بھی اضافہ ہو گا اور ایک ہی وقت میں چھ چھ لوگ بھی خود کش حملے میں حصہ لے سکتے ہیں۔

اجتماعی خود کش حملے
 ’ابھی تک آپ نے انفرادی حملے دیکھے ہیں۔ لیکن مستقبل میں ہو سکتا ہے کہ آپ چھ چھ لوگوں کو ایک ساتھ حملہ کرتا دیکھیں‘
طالبان کمانڈر ملا وحید اللہ

بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ لوئن ہلمند میں طالبان کے کنٹرول والے علاقے میں گئے ہیں اور انہوں نے بتایا ہے کہ کہ طالبان کو نئے رضاکار بھی مل رہے ہیں اور ہتھیار بھی۔

انہوں نے کہا کہ طالبان کے پاس اب نئی گاڑیاں اور دیگر مواصلاتی آلات آ گئے ہیں۔

ہلمند میں حاجی ملا وحید اللہ نے نامہ نگار کو بتایا کہ اب نیٹو افواج کو زیادہ حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا: ’ابھی تک آپ نے انفرادی حملے دیکھے ہیں۔ لیکن مستقبل میں ہو سکتا ہے کہ آپ چھ چھ لوگوں کو ایک ساتھ حملہ کرتا دیکھیں‘۔

’لاتعداد لوگوں نے خود کش حملوں کے لیے اپنے آپ کو رجسٹر کروایا ہے‘۔

افغانستان میں اس سال کے دوران تین ہزار سے زیادہ جانیں ضائع ہوئی ہیں اور 2001 کے بعد سے یہ سب سے زیادہ خونی سال گزرا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد