پچاس طالبان ہلاک کرنےکا دعویٰ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی افغانستان میں پھر لڑائی شروع ہو گئی ہے اور نیٹو کی افواج نے پچاس کے قریب طالبان باغیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ متعدد شہریوں کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ نیٹو کے ترجمان نے تسلیم کیا کہ جنوبی صوبے قندھار میں تین جگہوں پر جھڑپیں ہوئیں۔ تاہم طالبان کے کئی سینیئر کمانڈروں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ برطانوی افواج سے کئی محاذوں پر جنگ جیت رہے ہیں۔ ایک خصوصی انٹرویو میں طالبان کمانڈر نے بتایا کہ اب خود کش حملوں میں بھی اضافہ ہو گا اور ایک ہی وقت میں چھ چھ لوگ بھی خود کش حملے میں حصہ لے سکتے ہیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ لوئن ہلمند میں طالبان کے کنٹرول والے علاقے میں گئے ہیں اور انہوں نے بتایا ہے کہ کہ طالبان کو نئے رضاکار بھی مل رہے ہیں اور ہتھیار بھی۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کے پاس اب نئی گاڑیاں اور دیگر مواصلاتی آلات آ گئے ہیں۔ ہلمند میں حاجی ملا وحید اللہ نے نامہ نگار کو بتایا کہ اب نیٹو افواج کو زیادہ حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا: ’ابھی تک آپ نے انفرادی حملے دیکھے ہیں۔ لیکن مستقبل میں ہو سکتا ہے کہ آپ چھ چھ لوگوں کو ایک ساتھ حملہ کرتا دیکھیں‘۔ ’لاتعداد لوگوں نے خود کش حملوں کے لیے اپنے آپ کو رجسٹر کروایا ہے‘۔ افغانستان میں اس سال کے دوران تین ہزار سے زیادہ جانیں ضائع ہوئی ہیں اور 2001 کے بعد سے یہ سب سے زیادہ خونی سال گزرا ہے۔ | اسی بارے میں افغانستان: خودکش حملے، 18 ہلاک18 September, 2006 | آس پاس افغانستان: فوجی سمیت 18 ہلاک26 September, 2006 | آس پاس افغان لڑائی:’شدت پسند‘ ہلاک20 September, 2006 | آس پاس 94 مشتبہ طالبان، پکتیا گورنر ہلاک10 September, 2006 | آس پاس افغانستان: تشدد میں 22 ہلاک23 July, 2006 | آس پاس قندھار:خود کش حملہ، فوجی ہلاک22 July, 2006 | آس پاس گردیز خود کش حملہ: چار ہلاک16 July, 2006 | آس پاس خودکشیاں ’پی آر‘ کے لیئے: امریکہ11 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||