افغانستان: تشدد میں 22 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں حالیہ کشیدگی میں 22 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جن 19 طالبان اور دو پولیس اہلکار شامل ہیں۔ مقامی افسران کے مطابق طالبان کی ہلاکت برطانوی فوج اور افغانی پولیس اہلکار سے لڑتے ہوئے جنوبی ہلمند کے صوبے میں ہوئی۔ جبکہ افغانی پولیس کے دو افراد کی ہلاکت مشتبہ طالبان جنگجوُوں سے لڑتے ہوئے ہوئی۔ صوبے کے نائب گورنر امیر محمد اخندذادہ نے خبررساں ایجنسی رائیٹر سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’حکومت اور برطانوی فوج نے ہلمند پر حملوں کے دوران 19 طالبان کو ہلاک اور 17 کو گرفتار کیا ہے جن میں دو پاکستانی بھی شامل ہیں‘۔ مقامی لوگوں کے مطابق اس حملے میں کئی شہری بھی مارے گئے ہیں۔ محمد اخندذادہ کے مطابق لڑائی کا آغاز اس وقت ہوا جب برطانوی اور افغان فوجوں نے صوبے کے دارالحکومت لشکرگاہ کے قریب دیہات میں مشتبہ طالبان کے مورچوں پر حملہ کیا۔ مقامی افسران کے مطابق غزنی کے قصبے جیلان میں ایک چوکی پر حملےمیں تین افغان پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔ امریکی فوج کے ترجمان سکاٹ لنڈی نے کہا ہے کہ ہفتہ کے روز قندھار میں ہونے والا خود کُش حملہ اتحادی فوجوں کو افغانستان میں امن لانے اور ترقیاتی کام کرنے سے نہیں روک سکے گا۔ اس حملے میں دو کینیڈین فوجی ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے تھے۔ اس حملے کے فورًا بعد ایک اور خود کش حملہ کیا گیا تھا جس میں آٹھ افغان شہری مارے گئے تھے۔ اس کی علاوہ 19 شہری زخمی ہوئے تھے۔ ان حملوں میں دونوں حملہ آور بھی ہلاک ہو گئے تھے۔
ایک آدمی نے طالبان کا ترجمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے فون پر صحافیوں کو بتایا کہ ان حملوں کے پیچھے طالبان کا ہاتھ ہے۔ اس نے دھمکی دی ہے کہ افغان فوج اور امریکی اتحادیوں پر مزید خود کش حملے کیے جائیں گے۔ جمعہ کے روز افغانستان میں موجود برطانوی فوج کے سب سے سینیر کمانڈر نے کہا کہ ’ملکی صورتحال انارکی کے قریب ہے جس کی وجہ نجی سیکیورٹی کمپنیوں اور بیرونی ایجنسیوں کی کرپشن ہے۔ نیٹو کے سربراہ لیفٹینٹ جنرل ڈیوڈ رچرڈ نے روز نامہ گارڈین کو انٹرویو دیتے ہوئے اس بات کی تنبیہ کی ہے کہ اتحادی فوجوں کے پاس ضروری سامان نہیں ہے۔ حالیہ چند مہینوں میں القاعدہ اور طالبان شدت پسندوں نے افغانستان پر کئی حملے کیے ہیں۔ ان حملوں میں زیادہ تر پاکستان کی سرحد پر افغانستان کے جنوبی اور مشرقی علاقوں میں کیے گئے ہیں۔ نیٹو جنوبی افغانستان میں اس سال کے آخر تک امریکیوں سے آپریشنز لے گا اور اس مقصد کے لیے 21000 فوجیوں کو تعینات کیا جائے گا۔ | اسی بارے میں حامد کرزئی نے حلف اٹھالیا07 December, 2004 | صفحۂ اول افغان طیارہ اندرونی پرواز میں لاپتہ 04 February, 2005 | صفحۂ اول افغانستان: امریکی طیاروں کی بمباری 02 July, 2005 | صفحۂ اول شہریوں کی ہلاکت کا خدشہ03 July, 2005 | صفحۂ اول ’دہشت گردی، منبع پر دھیان دیں‘13 September, 2005 | صفحۂ اول افغان بارودی سرنگوں کی زد میں04 April, 2006 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||