BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 22 July, 2006, 15:01 GMT 20:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قندھار:خود کش حملہ، فوجی ہلاک
اتحادی فوجی
اس وقت تقریباً دس ہزار غیر ملکی فوجی امریکی قیادت میں طالبان اور ان کے اتحادیوں کے خلاف لڑ رہے ہیں
افغانستان کے صوبے قندھار میں اتحادی فوجیوں کی ایک گاڑی پر خود کش حملہ ہوا ہے جس میں غیرمصدقہ اطلاعات کے مطابق کم از کم دو اتحادی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایک امریکی ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہفتے کی شام اتحادی فوج کے ایک قافلے پر خود کش حملہ کیا گیا ہے۔ ترجمان میجر سکاٹ لنڈی نے کہا: ’اس موقع پر میں ہلاک یا زخمی ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں کچھ نہیں بتا سکتا۔‘

ادھر صوبہ ہلمند کے سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ امریکی فوج اور افغان فورسز کی ایک مشترکہ کارروائی میں تیرہ ’طالبان‘ ہلاک کر دیے گئے ہیں۔ اس کارروائی میں اتحادی فوج کو لڑاکا ہیلی کاپٹروں کی مدد بھی حاصل تھی اور اس میں پندرہ طالبان جنگجو زخمی بھی ہوئے ہیں۔اتحادی فوج نے اس کارروائی پر مزید تبصرہ نہیں کیا۔

اس وقت تقریباً دس ہزار غیر ملکی فوجی امریکی قیادت میں طالبان اور ان کے اتحادیوں کے خلاف لڑ رہے ہیں اور اس سال کے دوران سینکڑوں لوگ مارے جا چکے ہیں۔

تازہ ترین لڑائی کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ رواں ہفتے کے آغاز میں صوبہ ہلمند کے قصبے ’گرم سر‘ میں ہوئی۔ ’گرم سر‘ پر طالبان کا کنٹرول رہا ہے تاہم اتحادی فوج کا کہنا ہے کہ اس لڑائی کے بعد علاقے کا کنٹرول ان کے ہاتھ میں آ گیا ہے۔

ہلمند صوبے کے گورنر کے ترجمان حاجی غلام الدین نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ’ ان طالبان کو افغان فوج اور پولیس نے اتحادی فوج کی مدد سے مارا ہے اور اتحادی فوج نے اس میں گن شپ ہیلی کاپٹر استعمال کیے تھے۔‘

اسی علاقے میں جمعہ کے روز چھ طالبان کی ہلاکت کی بھی اطلاع ہے۔ جمعے کو ہی ہالینڈ کی فوج نے دعویٰ کیا اس کے خصوصی دستوں نے ملحقہ صوبے ارزگان میں ایک کارروائی میں اٹھارہ شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

ترجمان میجر سکاٹ لنڈی نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ گرم سر کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد ہم نے اس کے ارد گرد کے علاقوں میں آپریشن شروع کر دیا ہے جسے ہم فی الحال جاری رکھیں گے۔‘

گزشتہ مہینوں میں القاعدہ اور طالبان نے افغانستان میں کئی حملے کیے جن میں زیادہ تر کا مرکز ملک کے وہ مشرقی اور جنوبی علاقے رہے ہیں جن کی سرحدیں پاکستان سے ملتی ہیں۔

نیٹو کے فوجی اس سال جنوبی افغانستان میں امریکی فوجوں سے چارج لے لیں گے جس کے بعد توقع ہے کہ نیٹو علاقے میں تقریباً اکیس ہزار فوجی تعینات کرے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد