کابل بس دھماکے، ایک ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کابل میں بسوں میں دھماکوں کے دو مختلف واقعات میں ایک شخص ہلاک جبکہ سات زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس کے ذرائع کے مطابق پہلے دھماکے کی شکار ایک فوجی بس تھی جو ایک وزارت کے ملازمین کو لے جا رہی تھی۔ شہر کے مرکز کی طرف جاتی ہوئی بس دھماکے کے بعد بے قابو ہو کر سڑک کے کنارے دکانوں میں جا لگی جس سے دکانوں میں بھی آگ لگ گئی۔ دوسرے دھماکے کا شکار ہونی والی بس میں وزارت تجارت کے ملازمین سوار تھے جو کہ دارالحکومت کے شمالی حصے میں واقع اپنے دفتر جا رہے تھے۔ اطلاعات کے مطابق دونوں دھماکے ریڑھیوں پر رکھے بموں سے کیے گئے جو اس وقت پھٹے جب مذکورہ بسیں ان کے قریب سے گزر رہی تھیں۔ پہلے دھماکے کی تفصیل بتاتے ہوئے پولیس افسر علی شاہ پکتیاوال نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ دھماکہ خیز مواد ایک ریڑھی پر رکھا تھا، اور جوں ہی بس اس کے قریب پہنچی اس میں دھماکہ ہوا۔ وزارت داخلہ کے ترجمان کے مطابق اس دھماکے میں ایک راہگیر ہلاک جبکہ بس کے چار مسافر زخمی ہو گئے۔ دوسرے دھماکے کا شکار ہونے والی بس میں سوار نور حق ستانزئی نامی سرکاری ملازم نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ بس میں کل سولہ آدمی سوار تھے۔ ’خوش قسمتی سے بس بھری ہوئی نہیں تھی ورنہ بہت لوگ زخمی ہوتے۔‘ عینی شاہدیں نے رپورٹروں کو بتایا کہ بس میں خون کے دھبے لگے ہوئے تھے اور بم کے ٹکڑوں سے بس کو بھی نقصان پہنچا۔ بدھ کے دن ہونے والے دھماکوں سے صرف ایک دن قبل کابل میں اسی قسم کے دو اور دھماکے بھی ہوئے تھے جن میں سات افراد زخمی ہو گئے تھے۔ | اسی بارے میں افغانستان: طالبان ہلاکتوں کے دعوے03 July, 2006 | آس پاس پوست: یورپ کی مانگ، افغانستان کی پیداوار26 June, 2006 | آس پاس افغانستان میں ’65 طالبان ہلاک‘24 June, 2006 | آس پاس افغانستان: حملوں میں تیس ہلاک19 June, 2006 | آس پاس افغانستان: 40 مزاحمت کار ہلاک16 June, 2006 | آس پاس افغانستان: بس دھماکہ، دس ہلاک15 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||