’امن معاہدوں سے حملے بڑھے ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے حامی شدت پسندوں اور پاکستان کے درمیان امن کے معاہدوں کی وجہ سے افغانستان میں سرحد پار سے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ بین الاقوامی کرائسس گروپ نے جو دنیا میں پالیسی پر تحقیق کرنے والی بڑی تنظیم ہے، کہا ہے کہ شدت پسندوں کو ناراض نہ کرنے کی پالیسی کے سبب شدت پسندوں کو دوبارہ سے مسلح ہونے اور اپنی صفوں کو پھر سے مرتب کرنے کا موقع مل گیا۔ پاکستان کافی عرصے سے ان الزامات کو مسترد کر رہا ہے کہ وہ اپنے ہمسایہ ملک ملک کی زمین پر حملے روکنے کے لیے زیادہ اقدامات نہیں کر رہا۔ طالبان کے خاتمے کے بعدافغانستان میں آج کل بدترین تشدد جاری ہے۔
پاکستان نے جنوبی وزیرستان میں اپریل دو ہزار چار میں اور شمالی وزیرستان میں ستمبر دو ہزار چھ میں شدت پسندوں کے ساتھ متازع امن معاہدے کیے۔ ان معاہدوں کے بعد جن کا مقصد شدت پسندوں اور پاکستانی فوج کے درمیان تشدد کا خاتمہ تھا، افغانستان اور پاکستان میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے ۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ پاکستانی سرحد کے قریب سے افغانستان میں حملے شمالی وزیرستان میں پاکستانی حکام اور شدت پسندوں کے درمیان معاہدے کے بعد تین گناہ اضافہ ہوا ہے۔ بین الاقوامی کرائسس گروپ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہاں طالبان طرز کی ایک چھوٹی ریاست کو پنپنے کی اجازت دی گئی ہے۔ جنوبی ایشیا کے لیے گروپ کی پروجیکٹ ڈائریکٹر ثمینہ احمد کہتی ہیں: ’گزشتہ پانچ برس میں مشرف حکومت نے صورتِ حال پر قابو پانے کے لیے پہلے طاقت کا سہارا لیا اور بعد میں شدت پسندوں کو ناراض نہ کرنے کی پالیسی اختیار کی۔ دراصل دونوں ہی طریقے ناکام ہوئے ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد نے جو کچھ بھی کیا ہے اس سے صرف طالبان کے حامی شدت پسندوں کے حوصلے بڑھے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گرفتار شدت پسندوں کو رہا کرنے، ان کے ہتھیار واپس کرنے اور ’غیر ملکی دہشت گردوں‘ کو وہاں اس وعدے پر رہنے کی اجازت دینے سے کہ وہ تشدد ترک کر دیں گے، اصل میں سرحد کے دونوں جانب عدم استحکام پیدا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس پالیسی سے طالبان کے حامیوں کو یہ لائسنس مل گیا ہے کہ وہ بھرتیاں کریں اور لوگوں کو مسلح کریں جس کے نتیجے میں امریکہ، نیٹو اور افغانستان کی فوجیوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کے دفترِ خارجہ کی ترجمان نے اس رپورٹ پر یہ کہہ کر تبصرے سے انکار کر دیا کہ انہوں نے اس رپورٹ کا مطالعہ مکمل نہیں کیا۔ |
اسی بارے میں افغانستان: درجنوں طالبان ہلاک 04 December, 2006 | آس پاس خودکش حملے میں تین افغان ہلاک03 December, 2006 | آس پاس ہلمند میں ہلاکتیں کم ہوئیں: طالبان06 December, 2006 | آس پاس پچاس طالبان ہلاک کرنےکا دعویٰ26 October, 2006 | آس پاس افغانستان: 40 مشتبہ طالبان ہلاک24 September, 2006 | آس پاس 92 طالبان ہلاک کرنے کا دعویٰ11 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||