BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 25 October, 2006, 23:14 GMT 04:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طالبان کے ساتھ ایک سفر
طالبان
طالبان کا کہنا ہے کہ تاریخ ان کے ساتھ ہے
افغانستان کے ہلمند صوبے میں بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ لوئن نے برطانوی فوج سے برسرِ پیکار طالبان جنگوؤں کے ساتھ سفر کیا ہے۔ پیش ہے ان کے سفر کے بعد بھیجے گئے مراسلے کا خلاصہ۔

’دنیا میں طالبان جیسی کوئی بھی موبائل آرمی نہیں ہے۔

مجھے یہ اس وقت محسوس ہوا تھا جب میں نے ان کے ساتھ انیس نوے میں سفر کیا تھا۔ اس وقت انہوں نے اپنے مخالف مجاہدین کو شکست دے کر تقریباً سارے ملک پر قبضہ کر لیا تھا۔

گزشتہ ہفتے صحرا میں ایک دشوار گزار سفر کے بعد ہم ہلمند کے صوبے میں ایک دریا کے کنارے رکے۔

سورج ڈوب رہا تھا اور یہ افطار کا وقت تھا۔ نماز سے پہلے انہوں نے اس خشک دریا کے کنارے پر جمع ہوئے گدلے اور بظاہر گندے دکھائی دینے والے پانی سے وضو کیا۔

افغانستان کئی سالوں سے شدید قحط سے دو چار ہے لیکن صاف پانی کی کمی سے شاید ان سخت جان لوگوں کو کوئی تشویش نہیں ہے۔

طالبان
ایسا لگتا ہے کہ طالبان جنگجو موت سے بالکل نہیں ڈرتے

وہ درختوں سے ٹہنیاں توڑ کر دانت صاف کرتے ہیں اور پتلی سی شالوں سے لحاف کا کام لیتے ہیں۔

انہوں نے برطانوی فوج کو اپنی لڑنے کی شدت اور جانوں کی پرواہ نہ کرنے کے عمل سے حیران کر دیا ہے۔

جب ہم رات کو ایک گاؤں میں رکے تو طالبان گروہوں میں بٹ گئے اور مختلف گھروں سے خوراک اور رات گزارنے کا مطالبہ کیا۔

ہلمند کے صحرا میں یہ دور افتادہ دیہات بہت غریب ہیں اور قحط نے ان کی حالت اور بھی بری کر دی ہے۔

کھانے کو جو ہمیں ملا وہ چاولوں کا ایک پیالہ، بھنڈی کا سالن اور توے کی گول روٹی تھی۔جنوبی افغانستان میں امدادی ایجنسیوں کی ناکام پالیسیاں اور حکومت اور فوج میں بڑھتی ہوئی کرپشن کی وجہ سے طالبان کا اثر و رسوخ ان علاقوں میں بڑھ گیا ہے۔

طالبان کے ترجمان محمد آصف نے بتایا کہ ’جب طالبان کی اسلامی تحریک شروع ہوئی اس وقت بھی لوگوں کو کرپشن کی وجہ سے تشویش تھی۔ لوگ گورنروں اور دیگر حکام کو رشوتیں دے دے کر تنگ آ چکے تھے۔ ہم اٹھ کھڑے ہوئے اور تقریباً پورے ملک کو کرپٹ کمانڈروں اور کرپشن کی لعنت سے نجات دلوائی۔ یہی وہ وجہ ہے کہ اب لوگ ہماری حمایت کر رہے ہیں‘۔

طالبان
برطانوی فوج کی تباہ شدہ گاڑی پڑی ہے

سات اکتوبر کو برطانوی فوج کے ہاتھوں تباہ ہونے والے ایک گاؤں کے لوگ میرے برطانوی ہونے کے ناطے مجھ سے بات کرتے ہوئے بہت غصے میں تھے۔

نیٹو ذرائع کا کہنا ہے کہ اس گاؤں سے طالبان کی طرف سے شدید مذمت ہوئی تھی۔ برطانوی فوج کی کارروائی سے اس گاؤں میں ایک ہی خاندان کے چھ افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں تین جوان لڑکیاں بھی شامل تھیں۔

سب طالبان ہی اپنی تاریخ سے واقف نظر آتے ہیں اور یہ بھی ان کے حوصلے بلند رکھنے کی ایک بڑی وجہ نظر آتی ہے۔ انہوں نے 1842 اور 1880 میں برطانوی افواج اور 1980 کی دہائی میں روسی افواج کو شکست دی تھی اور ان فتوحات کا ذکر ان کی لوک کہانیوں کا حصہ ہے۔

پانچ سال قبل 2001 میں طالبان شکست کے بعد پہاڑوں میں چھپ گئے تھے اور اب وہ واپس آ کر دوبارہ اپنے درینہ مخالف سے جنگ کرنےمیں مصروف ہیں‘۔

مشتبہ طالبانافغانستان میں تشدد
بگڑتی صورتحال کا ذمہ دار آخر کون ہے؟
ہتھکڑیگوانتانامو کی یادیں
سابق افغان سفیر کی کتاب ہاتھوں ہاتھ فروخت
طالبان کا ہیڈکوارٹر
طالبان کا ہیڈکوارٹر کوئٹہ: برطانوی آفیسر
اسی بارے میں
کابل میں طالبان کا خوف
27 September, 2006 | آس پاس
نیٹو مِشن کو درپیش مسائل
05 September, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد