موسٰی قلعہ سے برطانوی فوج واپس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند میں گزشتہ چند ماہ کے دوران طالبان کے ساتھ شدید جھڑپوں کے بعد موسٰی قلعہ سے برطانوی فوج کو واپس بلالیا گیا ہے۔ مقامی عمائدین کے ساتھ ملاقات اور مذاکرات کے بعد برطانوی فوجیوں نے اس شرط پر علاقہ چھوڑنے پر آمادگی ظاہر کی کہ طالبان بھی پیچھے ہٹ جائیں گے۔ موسٰی قلعہ کو طالبان جنگجوؤں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ برطانوی فوج نے مقامی عمائدین کو اجازت دے دی ہے کہ وہ علاقے کی سکیورٹی کے لیئے اپنی پولیس تعینات کرلیں۔ بی بی سی کی تجزیہ کار سٹیفنی ارون کے مطابق افغانستان میں یہ عمائدین نہایت بااثر حیثیت رکھتے ہیں۔ حکومت چلانے میں یہ عمائدین صدیوں سے اپنا کردار ادا کرتے آئے ہیں۔ ان ہی لوگوں کے پاس علاقے میں اختیارات بھی ہیں اور انہیں نہایت عزت و تکریم کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ہر گاؤں کا انتظام قبائلی عمائدین کے گروہ کے پاس ہوتا ہے اور ان میں مقامی مذہبی رہنما بھی شامل ہوتے ہیں۔ ان کی زبان سے نکلا ہر لفظ ایک قانون کی حیثیت رکھتا ہے اور ان کے کہے کی خلاف ورزی کرنے والے کو یہ لوگ سزا دینے کے مجاز بھی ہیں۔ ایسی گروہ بندی مقامی، صوبائی اور حتٰی کہ قومی سطح تک پر پائی جاتی ہے۔ لویہ جرگہ ملک کا آئین تک منظور کرچکے ہیں اور ملک کے شاہ کا انتخاب بھی۔ 2002 میں پہلے بار صدر کرزئی کے دور میں لویہ جرگہ میں خواتین کو بھی شامل کیا گیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ان عمائدین کی رضامندی کے بغیر کوئی بھی افغنستان پر حکمرانی نہیں کرسکا ہے۔ 1978 میں جب روس نے افغن انتظامیہ کو تباہ کرنے کی کوشش کی تو انہیں نہ صرف ناکامی کا سامنا رہا بلکہ اس کے نتیجے میں مجاہدین منظر عام پر آگئے۔ اور یہی وہ طاقت ہے جس کے باعث موسٰی قلعہ میں یہ عمائدین طالبان سے بھی مذاکرات کرسکے ہیں جس کے تحت سیز فائر کا معاہدہ عمل میں آیا ہے۔. | اسی بارے میں تعیناتی پورے افغانستان میں: نیٹو30 September, 2006 | آس پاس افغانستان: فوجی سمیت 18 ہلاک26 September, 2006 | آس پاس افغانستان: خودکش حملے، 18 ہلاک18 September, 2006 | آس پاس افغان ضلع پر طالبان کا ’قبضہ‘ 15 September, 2006 | آس پاس ’مشرف کے بیان پر افسوس ہے‘14 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||