افغانستان: ناامیدی میں اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے بارے میں کیے گئے ایک حالیہ سروے کے مطابق وہاں کے لوگ اپنے ملک کے مستقبل کے بارے میں اب اتنے پر امید نہیں ہیں جتنے وہ ایک برس قبل کیے گئے سروے میں دکھائی دیئے تھے۔ بی بی سی ورلڈ سروس اور امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز کی طرف سے مشترکہ طور پر کرائے گئے اس سروے میں افغانستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے ایک ہزار بالغ افراد سے بات کی گئی ہے۔ انہیں دو اداروں کی طرف سے پچھلے برس کرائے گئے سروے میں ستتر فیصد لوگوں کا خیال تھا کہ ان کا ملک صیح سمت میں جا رہا ہے، لیکن تازہ ترین سروے میں ایسے پرامید لوگوں کی تعداد اب پچپن فیصد ہوگئی ہے۔ جن لوگوں کا خیال ہے کہ امن و امان کی صورتحال اب طالبان دور سے بہتر ہے، ان کی شرح پچھتر فیصد سے کم ہو کر اٹھاون فیصد رہ گئی ہے۔ اپنے ذاتی مستقبل کے بارے میں پرامیدی چون فیصد سے کم ہوکر تیرہ فیصد ہوگئی ہے۔ طالبان اور نیٹو افواج کے درمیان میدان جنگ بنے ہوئے افغانستان کے جنوبی صوبوں قندھار اور ہلمند میں اس حوالے سے اعدادوشمار اور بھی زیادہ پریشان کن ہیں۔
سروے کے مطابق اگر (ناامیدی کا) یہی رحجان رہا تو یہ کابل، واشنگٹن اور لندن میں بیٹھے حکام کے لیے ایک پریشان کن صورتحال ہوگی۔ دوسری طرف ان کے لیے یہ بات راحت کا باعث ہوگی کہ لوگوں کی ایک مثبت اکثریت ابھی بھی موجودہ دور کو طالبان کے دور سے بہتر سمجھتی ہیں۔ لیکن تقریباً اسی فیصد لوگ حکومتی بدعنوانی سے خائف ہیں، جبکہ پچھلے برس کی نسبت ان لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جو مغربی ممالک کی حکمت عملی کے برخلاف پوست کی کاشت کو جائز سمجھتے ہیں۔ پوست کاشت کرنے والے علاقوں میں ایسے لوگوں کی تعداد ساٹھ فیصد ہے۔ اس سروے کے مطابق اگرچہ طالبان کو محدود حمایت حاصل ہے لیکن لوگوں کی اکثریت انہیں (طالبان) افغانستان کو درپیش سب سے بڑا خطرہ قرار دیتی ہے۔ | اسی بارے میں افغان عدم استحکام، امن کے لیے خطرہ18 November, 2006 | آس پاس افغانستان میں تشدد بڑھنے کا خدشہ16 November, 2006 | آس پاس افغانستان میں قحط کا خطرہ23 October, 2006 | آس پاس بھنگ میں چھُپے طالبان جنگجو15 October, 2006 | آس پاس افغانستان پر حملے کے پانچ سال 15 October, 2006 | آس پاس ’افغانستان نازک موڑ پر ہے‘09 October, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||