افغانستان میں تشدد بڑھنے کا خدشہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوج کے ایک سینئر جنرل نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں آنے والے دنوں میں تشدد کے واقعات اضافہ ہو گا اور صورت حال بگڑتی چلی جائے گی۔ وزارت دفاع کے خفیہ ادارے کے سربراہ جنرل مائیکل میپلز نے کانگرس میں ایک سماعت کے دوران بیان دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں مزاحمت کاروں نے شدید نقصان اٹھانے کے باوجود اپنی کارروائیوں میں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان مزاحمت کارروں نے اپنی کارروائیاں کرنے کی صلاحیت بھی بہتر کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے پشتوں آبادی میں اپنا اثر و رسوخ بھی بڑھایا ہے۔ سماعت کے دوران انہوں نے کابل میں قائم کرزائی حکومت کی مدد کی بھی سفارش کی ہے کیونکہ ان کے مطابق کرزائی حکومت اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ دریں اثنا افغانستان میں پوست کی کاشت کے بارے میں ایک امریکی رپورٹ میں کہا گیا ہے پوست کی کاشت اور منشیات کی اسمگلنگ سے کابل کی حکومت کو خطرہ ہے۔
سرکاری طور پر مرتب کی گئی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں بڑھتے ہوئے تشدد سے پوست اور منشیات کے خلاف امریکی اقدامت ناکام ہوسکتے ہیں۔ افغانستان پوست پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور منشیات کی اسمگلنگ سے حاصل ہونا والا پیسہ مزاحمت کے لیئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس رپورٹ کے مطاق اس سال پوست کی کاشت میں پچاس فیصہ اضافہ ہوا ہے۔ | اسی بارے میں تشدد میں اضافہ ہوگا:ملا عمر 23 October, 2006 | آس پاس افغان کمانڈروں میں لڑائی: 32ہلاک23 October, 2006 | آس پاس شمالی وزیرستان: اب طالبان کے ٹیکس24 October, 2006 | آس پاس نیٹو بمباری: ’درجنوں شہری‘ ہلاک26 October, 2006 | آس پاس نیٹو بمباری: درجنوں افغان ہلاک27 October, 2006 | آس پاس افغان خواتین، خود سوزی کا رجحان15 November, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||