افغان خواتین، خود سوزی کا رجحان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں زندگی کی مشکلات سے تنگ آکر خودسوزی کرنے والی خواتین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ملک کی ایک غیر سرکاری تنظیم نے اس سلسلے میں ایک سروے کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ خواتین جن کی زبردستی شادی کردی جاتی ہے یا پھر جنہیں اپنے ہی گھروں میں ظلم و زیادتی کا سامنا ہے، ان میں ڈپریشن اور پھر خودکشی کا رجحان زور پکڑ رہا ہے۔ اگرچہ اس سلسلے میں اعدادو شمار جمع کرنا مشکل کام ہے تاہم ایک گروپ کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کابل میں خود سوزی کرنے والی عورتوں کی تعداد پچھلے برس کے مقابلے میں دوگنی ہوگئی ہے۔ ہیرات کے شہر میں ایسے واقعات ہر روز رپورٹ ہورہے ہیں۔ اس سال کابل میں اپنے آپ کو جلا کر ہلاک کرنے والی عورتوں کی تعداد 36 بتائی جا رہی ہے۔ غیر سرکاری تنظیم میڈیکا مونڈیئیل کی ترجمان اینسل ایڈریئن پال کا کہنا ہے کہ اس خواتین میں سے بیشتر نوجوان ہوتی ہیں۔ ’یہ جوان عورتیں اور لڑکیاں زندگی کی مشکلات سے پیچھا چھڑانے کے لیے ایسا کرتی ہیں کیونکہ انہیں اپنے مسائل سے چھٹکارے کا واحد ذریعہ یہی نظر آتا ہے۔‘ پال کا کہنا ہے کہ خودسوزی کے رجحان کا اثر ایران سے لیا جا رہا ہے جہاں ایسے واقعات معمول ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تعلیم اور ہنر مندی کی کمی بھی ان خواتین کو یہ قدم اٹھانے پر مجبور کررہی ہے کیونکہ انہیں اپنے مسائل سے جان چھڑانے کا کوئی اور راستہ نہیں ملتا۔ ملک کے قبائل میں بعض تنازعات کو حل کرنے کے لیے عورتوں اور لڑکیوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ خاندانی دشمنی کے بدلے کئی خاندان اپنی خاتین مخالف قبیلے کو دے کر تنازعہ حل کرتے ہیں۔ | اسی بارے میں نیٹو بمباری: درجنوں افغان ہلاک27 October, 2006 | آس پاس پچاس طالبان ہلاک کرنےکا دعویٰ26 October, 2006 | آس پاس افغانستان: نیٹو نے انتظام سنبھال لیا05 October, 2006 | آس پاس افغان جھڑپیں: ہزاروں کی ہجرت04 October, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||