افغانستان: نیٹو نے انتظام سنبھال لیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیٹو نے افغانستان کے مشرقی صوبوں کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ پانچ سال قبل یہ علاقے طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد امریکی اتحادی افواج کے کنٹرول میں آ گئے تھے۔ انٹرنشینل سکیورٹی اسسٹنس فورس یا آئی ایس اے ایف پہلے ہی ملک کے شمال، مغربی اور جنوبی حصوں میں فوجی دستوں کو تعینات کر چکی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس حالیہ فوجی اقدام کے بعد فورس کی قوت میں اضافہ ہوگا جو پہلے ہی ان علاقوں میں تعمیر نو کے کاموں میں مصروف ہے۔ افغانستان میں نیٹو کی تاریخ میں سب سے زیادہ فوجی تعینات کیے گئے ہیں۔ دس ہزار امریکی فوجیوں کی کمانڈ برطانیہ کے جنرل ڈیوڈ رچرڈز کے ہاتھ میں ہے۔ امریکی فوج کی شمولیت سے افغانستان میں نیٹو افواج کی کل تعداد تقریبًا اکتیس ہزار تک پہنچ جائے گی۔ کابل میں امریکی فوج سے آئی ایس اے ایف کو فوجی انتظام کی منتقلی کی ایک تقریب میں افغان صدر حامد کرزئی اور دونوں افواج کے اعلیٰ فوجی حکام شریک ہوئے۔ امریکی کمانڈر لیفٹینٹ جنرل کرل ایکنبیری کا کہنا تھا کہ آج کا دن افغانستان کی ترقی کے حوالے سے انتہائی اہم ہے اور یہ اقدام اتحادی افواج کے افغانستان کے عوام کو ملک کی تعمیر میں مدد دینے کے وعدے کا اظہار ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق افغانستان میں اس حالیہ فوجی اقدام کی کافی عرصے سے توقع کی جا رہی تھی تاہم حالیہ اقدام کے لیئے مقررہ منصوبے سے بہت جلد یہ قدم اٹھایا گیا ہے اور یہ اقدام اس بات کی غماضی بھی کرتا ہے کہ ملک کے جنوبی حصے میں برطانوی، کینیڈین اور دوسری نیٹو افواج کو طا لبان کی جانب سے کس قدر مزاحمت کا سامنا ہے۔ انہیں مشکلات کے پیش نظر امریکی افواج کو نیٹو کمانڈ کے تحت دیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین کا کہنا ہے کہ جنوبی حصے میں طالبان اور نیٹو افواج کے مابین جاری لڑائی کی وجہ سے نوے ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ یو این ایچ سی آر کے مطابق قندھار کے قریب وادی پنجوائی کے رہائشی اپنے گھروں کو چھوڑ کر جاچکے ہیں کیونکہ یہ لوگ فریقین کے درمیان جاری لڑائی کے باعث پھنس گئے تھے۔ اب نیٹو افواج کا دائرہ کار چودہ اضلاع میں پھیل جائے گا۔ ان علاقوں میں کنہٹر، نورستان، لغمان، نانگرہار، پکتیا، پکتیکا اور خوست بھی شامل ہیں۔ آئی ایس اے ایف کا کہنا ہے کہ امریکی اتحادی فوج کے اپنے کوئی آٹھ ہزار فوجیوں کی کمانڈ سنبھالنے کی توقع کی جا رہی ہے تاکہ دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ، تعمیر نو، افغانستان کی قومی فوج اور پولیس کی تربیت کے کاموں کو جاری رکھا جاسکے۔ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی تلاش کا کام بدستور امریکی افواج ہی انجام دیں گی۔ ملک کے مشرقی حصے کے بارے میں خیال ہے کہ ان علاقوں میں القاعدہ کا مضبوط اثر قائم ہے۔ تاہم قندھار سے رکن پارلیمان اور پارلیمان کی داخلی اور خارجی سکیورٹی اور انٹیلیجنس کمیٹی کے چیئرمین خالد پشتون نے بی بی سی ورلڈ سروس کو بتایا کہ ملک کا مشرقی حصہ جنوبی کی نسبت زیادہ محفوظ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں اس بات پر یقین ہے کہ ملک کے مشرقی حصوں میں رہنے والوں کی صورت حال جنوب والوں کی نسبت کہیں بہتر ہے اور جنوبی علاقے بھی دیگر کی نسبت حکومتی کنٹرول میں ہیں‘۔ نیٹو کے سپریم کمانڈر جنرل جیمز جونز کا کہنا تھا کہ افغانستان سے نکلنے کی نیٹو کی موجودہ حکمت عملی کا انحصار فوجی فتح پر نہیں بلکہ افغانستان کی کامیاب معاشی اور سیاسی تعمیر نو پر ہوگا۔ |
اسی بارے میں ’جنوبی افغانستان میں کمک بھیجیں‘07 September, 2006 | آس پاس افغانستان: فوجی کون بھیجے گا؟13 September, 2006 | آس پاس افغانستان: خودکش حملے، 18 ہلاک18 September, 2006 | آس پاس افغانستان: فوجی سمیت 18 ہلاک26 September, 2006 | آس پاس اسامہ افغانستان میں ہیں: مشرف28 September, 2006 | آس پاس تعیناتی پورے افغانستان میں: نیٹو30 September, 2006 | آس پاس جنوبی افغانستان سے نقل مکانی04 October, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||