جنوبی افغانستان سے نقل مکانی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پناہ گزینوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں جنوبی افغانستان میں جاری لڑائی سے ہزاروں لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ یو این ہائی کمیشن فار رفیوجیز کے مطابق ہلمند، قندھار اور اردگان کے صوبوں سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہونے والے افراد کی تعداد اسی ہزار سے نوے ہزار کے درمیان ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ اس طرح اس علاقے سے نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد دو لاکھ ہوچکی ہے۔ حالیہ مہینوں میں جنوبی افغانستان میں نیٹو کی فوج اور شدت پسندوں کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے کا کہنا ہے کہ اس نے قندھار صوبے میں تین ہزار دو سو خاندانوں کو لالٹین، چٹائی، آٹا، کمبل وغیر امداد کے طور پر پہنچایا ہے۔ کمیشن کے مطابق لڑائی جاری رہنے سے لوگوں کی زندگی مزید مشکل ہوگئی ہے کیوں کہ وہاں پہلے سے ہی خشک حالی تھی۔ کمیشن کی ترجمان جنیفر پیگنوسِس نے کہا: ’ہمیں خدشہ ہیں اگر لوگوں کی واپسی کے لیے حالات محفوظ نہیں بنائے گئے تو مزید لوگ نقل مکانی کریں گے۔‘ رفیوجیوں کے واپس بسانے کے لیے کام کرنے والے ایک اہلکار رحمت اللہ صفی نے کہا کہ پناہ گزینوں کے لیے کچھ امداد پہنچی ہے لیکن مزید کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ رحمت اللہ صفی نے کہا: ’لوگوں نے اپنا سب کچھ کھودیا ہے، اپنے باغیچے، سکول، کلنیک، وغیرہ۔‘ اڑتالیس سالہ حاجی عبدالحمید صوبے کے پنجوائی ضلع سے قندھار کے لیے اپنے خاندان کے ساتھ اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے اہلکار کو بتایا: ’میں قندھار شہر سے اپنی فیملی کو واپس اس وقت تک نہیں لے جاؤں گا جب تک سکیورٹی یقینی نہیں ہوجاتی۔‘ حالیہ مہینوں میں جنوبی افغانستان میں طالبان اور نیٹو افواج کے درمیان لڑائی میں طالبان اور فوجیوں سمیت سینکڑوں افراد مارے گئے ہیں۔ |
اسی بارے میں 94 مشتبہ طالبان، پکتیا گورنر ہلاک10 September, 2006 | آس پاس 92 طالبان ہلاک کرنے کا دعویٰ11 September, 2006 | آس پاس قندھار دھماکہ، کئی فوجی ’زخمی‘18 September, 2006 | آس پاس افغانستان: 40 مشتبہ طالبان ہلاک24 September, 2006 | آس پاس باہمی اختلافات دور کریں: بش28 September, 2006 | آس پاس تعیناتی پورے افغانستان میں: نیٹو30 September, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||