اسامہ افغانستان میں ہیں: مشرف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل مشرف نے کہا ہے کہ ان کی معلومات کے مطابق اساماہ بن لادن افغانستان میں ہیں۔ یہ بات انہوں نے نیو یارک سے برطانوی اخبار ’دی ٹائمز‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی ہے۔ جنرل مشرف نے اس فرانسیسی خفیہ رپورٹ کو رد کیا جس میں کہا گیا تھا کہ اسامہ بن لادن کچھ ہفتے پہلے پاکستان میں ٹائفائیڈ کے مرض سے ہلاک ہو گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اسامہ شاید افغانستان کے صوبے کنڑ میں ہیں۔ یہ محض شک نہیں ہے۔ کنڑ کی باجوڑ ایجنسی کے ساتھ سرحد ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ باجوڑ ایجنسی میں کہیں کہیں القاعدہ کے گروہ موجود ہیں۔ ہمارا وہاں اچھا خفیہ نظام بنا ہوا ہے۔ ہماری فوج وہاں ان لوگوں پر دو مرتبہ چھاپے بھی مار چکی ہے۔ ہم نے ان کا پتہ لگا یا تھا کچھ کو ہلاک بھی کیا تھا۔‘ جنرل مشرف کا کہنا تھا کہ اسامہ بن لادن شاید سابق مجاہدین کمانڈر گلبدین حکمت یار کے ساتھ کنڑ میں ہوں۔ صدر کے پاس اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کی کاپی بھی تھی جس میں کہا گیا ہے کہ افعانستان میں جاری مزاحمت افغانستان کے اندر عناصر چلا رہے ہیں اور وہ بار بار اس کا حوالہ دیتے رہے۔ صدر مشرف اور افغان صدر حامد کرزئی کے درمیان کئی مہینوں سے اس بات پر بیان بازی چل رہی ہے۔ صدر کرزئی کا الزام ہے کہ القاعدہ اور طالبان کے کارکن سرحد کے قریب پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور پاکستانی حکومت ان کے خلاف کارروائی نہیں کرتی۔ صدر مشرف کا موقف ہے کہ پاکستانی فوج نے اس سلسلے میں پوری کوششیں کی ہیں اور صدر کرزئی کا یہ داخلی مسئلہ ہے اور اس کا قصوروار وہ پاکستان کو نہ ٹھہرائیں۔ حالیہ مہینوں میں دونوں رہنماؤں میں خاصی کشیدگی رہی ہے۔ بدھ کو وائٹ ہاؤس میں صدر بش کے دیئے ہوئے عشائیے ان دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے سے مصافحہ بھی نہیں کیا۔ انٹرویو میں جنرل مشرف نے یہ بھی کہا کہ القاعدہ کے کارکنوں کو پکڑنے کے لیئے امریکہ نے لاکھوں ڈالر دیے تھے ’لیکن یہ پیسے حکومت پاکستان کے عالی سطح پر نہیں دیے گئے ، یہ مختلف اداروں کے ذریعے ان افراد کو ملے جنہوں نے گرفتاریوں کے لئیے کام کیا۔‘ انہوں نے خفیہ معلومات کے تبادلے کے حوالے سے مغربی ممالک سے ناخوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کا خیال ہے کہ ہم ’بیکورڈ لوگ ہیں‘ تاہم یہ صورتحال اب کچھ بہتر ہو رہی ہے۔ ’آپ لوگوں کا خیال تھا کہ سب کچھ افغانستان اور پاکستان میں ہو رہا ہے لیکن سات جولائی کے بعد آپ کو پتہ چلا ہے کہ آپ کے ملک میں بہت کچھ ہو رہا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ہر چیز کا الزام پاکستان پر نہیں ڈالنا چاہیے’ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ساتھ لڑ رہے ہیں۔ اگر آپ سارا الزام پاکستان پر ڈالنا شروع کر دیں تو ہم اس جنگ میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔‘ |
اسی بارے میں ’آئی ایس آئی نے سرد جنگ جیتی‘28 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||