BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 28 September, 2006, 06:35 GMT 11:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’آئی ایس آئی نے سرد جنگ جیتی‘
رپورٹ کو جنرل مشرف پر براہ راست تنقید سمجھا جارہا ہے
رپورٹ کو جنرل مشرف پر براہ راست تنقید سمجھا جارہا ہے
پاکستانی صدر نے اس رپورٹ پر شدید غصے کا اظہار کیا ہے جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی بالواسطہ طور پر القاعدہ اور طالبان کی مدد کرتی رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات میں کہیں گے کہ مذکورہ رپورٹ ان کی حکومت کے موقف کی نمائندگی نہیں کرتی۔

یہ رپورٹ ایک برطانوی وزارتِ دفاع میں کام کرنے والے ایک محقق نے تیار کی ہے۔

تاہم وزارتِ دفاع کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ تعلیمی تحقیق کے لیئے بنائے گئے نوٹس کو وزارتِ دفاع کا موقف نہ سمجھا جائے۔

اس سے قبل صدر مشرف نے افغانستان کے صدر حامد کرزئی کے بیان کی بھی تردید کی کہ پاکستان سرحدی علاقوں سے ’دہشت گردی‘روکنے میں ناکام رہا ہے اور انہوں نے کہا کہ ’صدر کرزئی تو اپنے دفتر سے بھی نہیں نکل سکتے‘۔

انہوں نے اپنا وہ بیان واپس لینے سے انکار کیا کہ امریکہ کے نائب وزیر خارجہ رچرڈ آرمٹیج نے نو گیارہ کے بعد دھمکی دی تھی کہ اگر پاکستان نے امریکہ کے ساتھ تعاون نہ کیا تو اُسے پتھر کے زمانے میں پہنچا دیا جائے گا۔

رپورٹ کے بارے میں خیال ہے کہ یہ ایک فوجی پس منظر رکھنے والے شخص نے لکھی ہے جس کا خفیہ ایجنسیوں سے تعلق ہے۔اس کے اقتباسات اور تجاویز بدھ کی شب بی بی سی کے ٹیلی ویژن پروگرام ’نیوز نائٹ‘ پر نشر کی گئیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی ’القاعدہ کی دہشت گردی کی حمایت‘ کررہی ہے اور صدر پرویز مشرف ایک ایسے ملک کی سربراہی کررہے ہیں جو کہ ’انتشار کے دہانے پر‘ کھڑا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عراق کے خلاف جنگ نے مسلم دنیا میں شدت پسندوں کی بھرتی مہم کا کام کیا ہے۔

تاہم برطانوی وزارت دفاع نے کہا کہ یہ رپورٹ وزارت یا برطانوی حکومت کا سرکاری موقف نہیں ہے۔ اس رپورٹ میں آئی ایس آئی کو ختم کرنے کی تجویز پر پرویز مشرف نے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔

جنرل پرویز مشرف نے بی بی سی کے پروگرام ’نیوز نائٹ‘ کو بتایا کہ آئی ایس آئی ایک ’ڈِسپلِنڈ فورس‘ یعنی نظم و ضبط کا پابند ادارہ ہے۔

رپورٹ کی چار نکاتی تجاویز
 رپورٹ کی تجاویز میں کہا گیا ہے کہ برطانوی اور پاکستانی افواج کے درمیان جو ’روابط‘ ہیں ان کا استعمال کرتے ہوئے جنرل مشرف پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ اقتدار سے ’دستبردار‘ ہوجائیں، آزادانہ انتخابات قبول کریں، فوج کو سویلین لائف سے واپس بیرکوں میں بھیجیں اور آئی ایس آئی کو ختم کریں۔
جنرل مشرف نے کہا کہ یہ معاملہ وہ دو ایک دن میں برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کے ساتھ ملاقات میں اٹھائیں گے۔ انہوں نے سرد جنگ کے خاتمے میں آئی ایس آئی کے کردار کی تعریف کی۔

گزشتہ عشروں میں آئی ایس آئی کے کردار کو سراہتے ہوئے جنرل مشرف نے کہا: ’ستائیس برسوں تک وہ (آئی ایس آئی) وہی کرتی رہی ہے جو حکومت اسے بتاتی رہی ہے، اس نے دنیا کے لیے سرد جنگ جیتی، اگر آئی ایس آئی نے نمایاں کام نہیں کیا ہوتا تو سوویت یونین کا زوال نہیں ہوتا ،۔۔۔ القاعدہ کی کمر نہ ٹوٹتی، ۔۔۔ اگر آئی ایس آئی بہترین کام نہیں کرررہی ہوتی تو (القاعدہ کے) 680 افراد نہیں پکڑے گئے ہوتے۔۔۔۔‘

برطانوی وزارت دفاع کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں طالبان مزاحمت، لندن کی زیرزمین ٹرینوں میں ہونے والے سات جولائی کے خودکش بم دھماکے اور عراق میں القاعدہ کی دہشت گردی میں آئی ایس آئی کا کردار شامل ہے۔

اس رپورٹ میں پاکستانی فوج کے دہشت گردی کے خلاف ’دوہرے کردار‘ اور متحدہ مجلس عمل کی ’حمایت‘ اور ’طالبان کی بلاواسطہ حمایت‘ کی بات کی گئی ہے۔

لندن دھماکوں سے پاکستان کے تعلق پر صدر پرویز مشرف نے کہا کہ آئی ایس آئی کا کردار ستائیس برسوں کے دوران بہتر رہا ہے اور صرف دو مہینے کے لیئے لندن کے دھماکوں کے خودکش بمباروں کا پاکستان سفر کرنا اتنی اہمیت کی حامل نہیں ہے بلکہ برطانیہ کی خفیہ ایجنسیوں کو اپنی ناکامی پر توجہ دینی چاہیے۔

اس رپورٹ میں پاکستان میں سیاسی ’استحکام‘ کی خاطر جنرل مشرف کی فوجی حکومت کی حمایت کی برطانوی پالیسی کو ’غلط‘ بتایا گیا ہے۔

آئی ایس آئی کا دفاع
 ستائیس برسوں تک وہ (آئی ایس آئی) وہی کرتی رہی ہے جو حکومت اسے بتاتی رہی ہے، اس نے دنیا کے لیے سرد جنگ جیتی، اگر آئی ایس آئی نے نمایاں کام نہیں کیا ہوتا تو سوویت یونین کا زوال نہیں ہوتا ،۔۔۔ القاعدہ کی کمر نہ ٹوٹتی، ۔۔۔ اگر آئی ایس آئی بہترین کام نہیں کرررہی ہوتی تو (القاعدہ کے) 680 افراد نہیں پکڑے گئے ہوتے۔

رپورٹ میں اس بات کی بھی قیاس آرائی کی گئی ہے کہ اگر جنرل مشرف ان تجاویز کو قبول نہیں کرتے ہیں، تو ان پر ’دباو‘ کا استعمال کیا جانا چاہیے۔

رپورٹ کے مطابق جنرل مشرف اس بات سے واقف ہیں کہ ان کے لیئے وقت ختم ہورہا ہے، اور کسی نہ کسی وقت امریکہ اپنی فنڈِنگ واپس لے گا اور ممکن ہے کہ ان کا ’تحفظ‘ بھی جس پر امریکہ کو ایک اندازے کے مطابق ستر سے اسی ملین ڈالر ماہانہ خرچ کرنے پڑتے ہیں۔

رپورٹ برطانوی وزارت دفاع کی دفاعی اکیڈمی کے لیئے تیار کی گئی ہے۔ بی بی سی نے سکیورٹی وجوہات کی وجہ سے مصنف کا نام شائع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس رپورٹ میں دہشت گردی مخالف جنگ میں مغرب کی ناکامی کی بات کی گئی ہے۔ اس مطالعے کے لیئے برطانوی وزارت دفاع کے محققین نے گزشتہ جون پاکستان کا دورہ کیا جہاں انہوں نے انٹیلیجنس اور تعلیمی اداروں کے پروفیسروں سے دہشت گردی مخالف جنگ سے متعلق گفتگو کی۔ یہ رپورٹ شائع نہیں کی گئی ہے۔

افغان سرحد پر پاکستانی فوجیپاکستان کا طالبان جوا
پاکستان کی افغان سرحد پر نازک پالیسی
مشرفحکومت جائز یا ناجائز
مشرف حکومت پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔
واحد ادارہ
آئی ایس آئی، بھرتیوں کا بل سینٹ سےمنظور
ISI کا بے پناہ اختیار
بوڑھے برگیڈیئر کے خلاف ISI کا ایکشن
پاکستان اور نو گیارہ
9/11 اور پاکستان میں بدلتی ہوئی صورت حال
 آصف بالادی سندھ ۔ آصف بالادی
وہ فوج کے خلاف نہ تھا پھر بھی لاپتہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد