نیٹو بمباری: درجنوں افغان ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیٹو کے ایک فضائی حملے میں درجنوں عام شہریوں کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق مرنے والوں کی تعداد ساٹھ کے قریب ہے جن میں زیادہ تر عوتیں اور بچے شامل ہیں۔ اقوام متحدہ نے اس واقعہ پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے مشن نے کہا ہے کہ انہیں ان رپورٹوں پر بہت تشویش ہے جن میں بتایا گیا ہے نیٹو بمباری سے خواتین اور بچوں سمیت ساٹھ سے زائد شہریوں کو ہلاک ہو گئے ہیں۔ نیٹو کا دعوی ہے کہ حملے میں اڑتالیس طالبان ہلاک ہوئے ہیں لیکن اس کے ایک ترجمان مارک لیٹی نے اب اعتراف کیا ہے کہ عام شہریوں کے مارے جانے کی اطلاعات بھی درست ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمیں یقین ہے کہ ہم نے صحیح ٹھکانے کو نشانہ بنایا اور اس حملے میں طالبان ہلاک ہوئے۔ لیکن یہ بھی درست ہے کہ عام شہری بھی مارے گئے ہیں اور اگر ایسا ہوا ہے تو ہیں بہت افسوس ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ علاقے میں موجود شدت پسند عام شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’جب آپ کو شورش کا سامنا ہو تو ایسا ہو جاتا ہے‘۔ ’ہمارے سامنے اس وقت فعال بغاوت ہے۔ ہم نے لڑائی کے کچھ اصول بنائے ہیں لیکن کبھی کبھار چیزیں غلط ہو جاتی ہیں‘۔ افغانستان کے صدر حامد کرزئی اور نیٹو نے معاملے کی تفتیش کے لیے الگ الگ انکوائریوں کا حکم دیا ہے۔ نیٹو کا کہنا ہے کہ وہ صوبہ قندھار میں پنجوئی کے علاقے میں اس سلسلے میں افغان فوج کے ساتھ تفتیش میں شامل ہوگا۔ اتحادی افواج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اسے 60 تک کی سویلین ہلاکتوں کی خبر ملی ہے لیکن وہ ابھی ان کی تصدیق نہیں کر سکے ہیں۔ نیٹو نے پہلے کہا تھا کہ اس کارروائی میں 48’ طالبان‘ ہلاک ہوئے تھے۔
پنجوئی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق نیٹو نے حالیہ کارروائی دو روز پہلے شروع کی تھی۔ پنجوئی کے ضلعی اہلکار نیاز محمد سرحدی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ان کی اطلاعات کے مطابق نیٹو کی بمباری میں 60 شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم قندھار کے صوبائی کونسل کے ممبر بسم اللہ افغانمال نے کہا کہ ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد 80 کے قریب ہے۔ بسم اللہ افغانمال نے خبر رساں ادارے اے پی سے کہا کہ ’حکومت اور اتحادی فوج نے ہمیں کہا تھا کہ اس علاقے میں کوئی طالبان باقی نہیں رہے۔اگر طالبان اب نہیں ہیں تو یہ ہمارے علاقے پر بمباری کیوں کر رہے ہیں؟‘ مقامی لوگوں نے بی بی سی پشتو سروس کو بتایا کہ ملبے کے ڈھیر سے پہلاک ہونے والوں کی لاشیں نکالی جا رہی ہیں اور انہیں دفنایا جا رہا ہے۔ بچ جانے والے ایک شخص نے بتایا کہ ’میرے خاندان کے بیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ دس زخمی ہیں۔ زخمی افراد قندھار شہر میں میر واعظ ہسپتال میں لے جائے گئے ہیں اور کوئی بھی انہیں مل سکتا ہے‘۔ ’خدا کے لیے آئیں اور ہماری حالت دیکھیں‘۔ پچھلے ہفتے قندھار اور ہلمند میں نیٹو کی کارروائیوں میں 21 سویلین ہلاک اور سو سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ |
اسی بارے میں طالبان کے ساتھ ایک سفر25 October, 2006 | آس پاس تشدد میں اضافہ ہوگا:ملا عمر 23 October, 2006 | آس پاس پچاس طالبان ہلاک کرنےکا دعویٰ26 October, 2006 | آس پاس افغانستان میں قحط کا خطرہ23 October, 2006 | آس پاس کھوپڑی کےساتھ تصاویر پر تنازع25 October, 2006 | آس پاس برطانوی فوجی قافلے پر خود کش حملہ19 October, 2006 | آس پاس افغانستان: 40 مشتبہ طالبان ہلاک24 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||