BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 27 October, 2006, 01:00 GMT 06:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نیٹو بمباری: درجنوں افغان ہلاک
قندھار میں تباہ گھر
قندھار میں نیٹو طیاروں کی بمباری سے انسانوں کے علاوہ جانور بھی ہلاک ہوئے
نیٹو کے ایک فضائی حملے میں درجنوں عام شہریوں کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق مرنے والوں کی تعداد ساٹھ کے قریب ہے جن میں زیادہ تر عوتیں اور بچے شامل ہیں۔ اقوام متحدہ نے اس واقعہ پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے مشن نے کہا ہے کہ انہیں ان رپورٹوں پر بہت تشویش ہے جن میں بتایا گیا ہے نیٹو بمباری سے خواتین اور بچوں سمیت ساٹھ سے زائد شہریوں کو ہلاک ہو گئے ہیں۔

نیٹو کا دعوی ہے کہ حملے میں اڑتالیس طالبان ہلاک ہوئے ہیں لیکن اس کے ایک ترجمان مارک لیٹی نے اب اعتراف کیا ہے کہ عام شہریوں کے مارے جانے کی اطلاعات بھی درست ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ہمیں یقین ہے کہ ہم نے صحیح ٹھکانے کو نشانہ بنایا اور اس حملے میں طالبان ہلاک ہوئے۔ لیکن یہ بھی درست ہے کہ عام شہری بھی مارے گئے ہیں اور اگر ایسا ہوا ہے تو ہیں بہت افسوس ہے‘۔

خاندان تباہ ہو گیا
 ’میرے خاندان کے بیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ دس زخمی ہیں۔ زخمی افراد قندھار شہر میں میر واعظ ہسپتال میں لے جائے گئے ہیں اور کوئی بھی انہیں مل سکتا ہے‘
بچ جانے والا ایک شخص

انہوں نے کہا کہ علاقے میں موجود شدت پسند عام شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’جب آپ کو شورش کا سامنا ہو تو ایسا ہو جاتا ہے‘۔

’ہمارے سامنے اس وقت فعال بغاوت ہے۔ ہم نے لڑائی کے کچھ اصول بنائے ہیں لیکن کبھی کبھار چیزیں غلط ہو جاتی ہیں‘۔

افغانستان کے صدر حامد کرزئی اور نیٹو نے معاملے کی تفتیش کے لیے الگ الگ انکوائریوں کا حکم دیا ہے۔

نیٹو کا کہنا ہے کہ وہ صوبہ قندھار میں پنجوئی کے علاقے میں اس سلسلے میں افغان فوج کے ساتھ تفتیش میں شامل ہوگا۔

اتحادی افواج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اسے 60 تک کی سویلین ہلاکتوں کی خبر ملی ہے لیکن وہ ابھی ان کی تصدیق نہیں کر سکے ہیں۔ نیٹو نے پہلے کہا تھا کہ اس کارروائی میں 48’ طالبان‘ ہلاک ہوئے تھے۔

نیٹو بمباری کا نشانہ بننے والے گاؤں میں بم گرنے سے گڑھے پڑ گئے

پنجوئی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق نیٹو نے حالیہ کارروائی دو روز پہلے شروع کی تھی۔ پنجوئی کے ضلعی اہلکار نیاز محمد سرحدی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ان کی اطلاعات کے مطابق نیٹو کی بمباری میں 60 شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم قندھار کے صوبائی کونسل کے ممبر بسم اللہ افغانمال نے کہا کہ ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد 80 کے قریب ہے۔

بسم اللہ افغانمال نے خبر رساں ادارے اے پی سے کہا کہ ’حکومت اور اتحادی فوج نے ہمیں کہا تھا کہ اس علاقے میں کوئی طالبان باقی نہیں رہے۔اگر طالبان اب نہیں ہیں تو یہ ہمارے علاقے پر بمباری کیوں کر رہے ہیں؟‘

مقامی لوگوں نے بی بی سی پشتو سروس کو بتایا کہ ملبے کے ڈھیر سے پہلاک ہونے والوں کی لاشیں نکالی جا رہی ہیں اور انہیں دفنایا جا رہا ہے۔

بچ جانے والے ایک شخص نے بتایا کہ ’میرے خاندان کے بیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ دس زخمی ہیں۔ زخمی افراد قندھار شہر میں میر واعظ ہسپتال میں لے جائے گئے ہیں اور کوئی بھی انہیں مل سکتا ہے‘۔

’خدا کے لیے آئیں اور ہماری حالت دیکھیں‘۔
اتحادی افواج نے پچھلے ماہ صوبہ قندھار میں آپریشن میڈیوسا‘ نامی کارروائی میں پانچ سو تک طالبان کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا۔

پچھلے ہفتے قندھار اور ہلمند میں نیٹو کی کارروائیوں میں 21 سویلین ہلاک اور سو سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

طالبانطالبان کے ساتھ سفر
بی بی سی کے نامہ نگار کی خصوصی رپورٹ
اسی بارے میں
طالبان کے ساتھ ایک سفر
25 October, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد