برطانوی فوجی قافلے پر خود کش حملہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کےصوبے ہلمند کے دارالحکومت لشکر گاہ میں نیٹو فوج کے قافلے پر حملے میں متعدد برطانوی فوجی زخمی ہو گئے ہیں۔ برطانیہ کی وزارت دفاع نے متعدد برطانوی فوجیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ کچھ اطلاعات کے مطابق اس خود کش حملے میں دو نیٹو فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ عینی شاہدوں نے بتایا ہے کہ ہلمند کے دارالحکومت لشکر گاہ میں خود کش حملہ آور نیٹو فوجی قافلے پر اس وقت کود گیا جب وہ شہر سے گذر رہا تھا۔ صوبہ ہلمند میں نیٹو فوجیوں اور طالبان میں اس سال جھڑپوں میں اضافہ ہوا ہے۔ بی بی سی ریڈیو فور کے ساتھ بات کرتے ہوئے نیٹو کے سیکرٹری جنرل یاپ ڈی ہوپ شیفر نے کہا کہ نیٹو افواج کو ہر صورت افغانستان میں رہنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ کہ افغانستان کن حالات سے واپس آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا نیٹو کے فوجی افغانستان میں اس لیئے ہیں کہ وہ یورپی ممالک کی قدروں کو محفوظ کرنا چاہتے ہیں۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اگر اس مرتبہ ناکام ہوئے تو افغانستان پھر دہشت گردوں کی پناہ گاہ بن جائے گا جہاں سے یورپی ممالک پر حملے کیے جاتے رہیں گے۔ | اسی بارے میں بھنگ میں چھُپے طالبان جنگجو15 October, 2006 | آس پاس افغانستان: نیٹو نے انتظام سنبھال لیا05 October, 2006 | آس پاس جنوبی افغانستان سے نقل مکانی04 October, 2006 | آس پاس ’افغانستان نازک موڑ پر ہے‘09 October, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||