’افغانستان نازک موڑ پر ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں تعینات نیٹو کے کمانڈر نے کہا ہے کہ اگر اگلے چھ ماہ میں افغانوں کی زندگیوں میں کوئی تبدیلی نہ آئی تو ان کی اکثریت کی ہمدردیاں طالبان کے ساتھ ہو جائیں گی۔ نیٹو کمانڈر جنرل ڈیوڈ رچرڈ نے کہا کہ افغانستان ایک اہم موڑ پر ہے۔ سن دوہزار ایک میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد امریکہ نےافغانستان کی تعمیر نو کا وعدہ کیا تھا لیکن اب بھی لاکھوں لوگ انتہائی بدترین حالات میں عارضی کیمپوں میں رہ رہی ہیں۔ طالبان ملک کے جنوبی اور مشرق علاقوں میں دوبارہ اثرورسوخ حاصل کرتے جا رہے ہیں اور اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ملک میں خودکش حملوں کی تعداد گزشتہ سال ہونے والے اکیس دھماکوں کے مقابلے میں بڑھ کر نوے ہوگئی ہے۔ نارتھ ایٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن یعنی معاہدۂ شمالی بحرِ اقیانوس کی تنظیم یا نیٹو میں اس وقت چھبیس ملکوں کی افواج شامل ہیں اور سنہ دوہزار ایک میں امریکہ کے ہاتھوں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد سے تیس ہزار سے زیادہ نیٹو فوجی ملک میں امن و امان کی ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہیں۔ | اسی بارے میں افغانستان: نیٹو نے انتظام سنبھال لیا05 October, 2006 | آس پاس ’وزیرستان معاہدے پر تحفظات ہیں‘06 October, 2006 | آس پاس جنوبی افغانستان سے نقل مکانی04 October, 2006 | آس پاس دو امریکیوں سمیت تین فوجی ہلاک03 October, 2006 | آس پاس ’پاکستان مزید اقدامات کرے‘06 October, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||