’وزیرستان معاہدے پر تحفظات ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغان صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ وہ افغانستان اور پاکستان کے مابین بھائی چارے اور دو طرفہ رابطے کے خواہاں ہیں جو باہمی احترام اور عزت پر قائم ہو۔ دارالحکومت کابل میں بی بی سی کی پشتو سروس کو ایک خصوصی انٹرویو کے دوران انہوں نے پاکستان سے بہتر تعلقات کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ افغانستان میں امن قائم کرنا بھی چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں بم دھماکے اور دہشت گردی بند کی جائے۔انہوں نے کہا کہ اس مطالبہ میں تبدیلی نہیں آئے گی جب تک پورا نہیں ہوجاتا اور اس کے بدلے ان پر جو الزام چاہے لگایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کے عرصے میں افغان قوم بخوبی اپنے تمام فرائض سے عہدہ برآ ہونے میں کامیاب رہی ہے۔ البتہ اس دوران بیرونی مداخلت اور دہشت گردی کا سلسلہ ختم نہیں ہوسکا۔ اور جو قوتیں افغانستان کو اپنے زیر اثر رکھنا چاہتی ہیں وہ ایک بار پھر سے فعال ہوگئی ہیں۔
بین الاقوامی برادری کے کردار کو سراہتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس نے اپنے تمام وعدے پورے کیئے ہیں۔ البتہ حامد کرزئی کے بقول عالمی برادری نے باجود ان کی کوشش کے ایک بات کی طرف توجہ نہیں دی اور وہ یہ کہ اس نے بعض ایسی قوتوں پر انحصار کیا جو افغانستان سے مخلص نہیں تھیں اور اس کا نتیجہ افغانستان میں خرابی کی شکل میں نکلا۔ پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں حکومت اور مقامی شدت پسندوں کے مابین امن معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے افغان صدر نے کہا سفید ریش قبائلی عمائدین کے ساتھ سمجھوتے کا وہ احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’افغانستان خود بھی اس بات کو بہتر طور پر سمجھتا ہے۔ افغانستان وہ ملک ہے جہاں سفید ریش بزرگوں کو بڑی عزت دی جاتی ہے۔ اور یہ پاکستان کے بھی حق میں اور دہشتگردی کے خلاف فیصلہ کن حربہ ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ اگر یہ سمجھوتہ اتمانزئی اور وزیر قبائلی عمائدین کے ساتھ ہوا ہے تو وہ اس کی حمایت کریں گے اور اگر یہ دہشتگردوں کے ساتھ معاہدہ ہے تو اس کا نقصان افغانستان کو ہوگا، جیسا کہ ہو بھی رہا ہے تو اور وہ سختی سے اس کی مخالفت کریں گے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا حال ہی میں افغانستان کے جنوب میں بعض قبائلیوں اور نیٹو افواج کے درمیان ہونے والے سمجھوتے کا کوئی تعلق پاکستان میں ہونے والے معاہدے سے ہے تو مسٹر کرزئی نے کہااس کا، اُس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
افغانستان میں حکومت نے چار سے پہلے اعلان کیا تھا کہ وہ افغان بچے جو طالب یا غیر طالب ہیں، اور جس سبب بھی افغانستان سے گئے ہیں، چاہے غربت کی وجہ سے یا جنگی سرداروں کی وجہ سے، وہ افغانستان آجائیں، یہ اُن کا وطن ہے یہ اُن کی مٹی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’موسٰی قلعہ کا طالب ہو یا کہیں اور کا اس کا اس دھرتی پر اتنا ہی حق ہے جتنا میرا۔ اس کے ساتھ ہم ہر وقت بات کرنے کو تیار ہیں۔‘ حامد کرزئی نے امریکہ کے اپنے حالیہ دورے کے بارے میں بتایا کہ وہ مغربی ممالک کو یہ باور کروانے میں کامیاب رہے ہیں کہ افغانستان میں امن و امان کی بگڑتی ہوئے صورتحال دراصل بیرونی مداخلت کا نتیجہ ہے۔ اور یہ الزام غلط ہے کہ افغانستان کے لوگ امن پسند نہیں ہیں اور دہشتگردی افغانستان کی اپنی سرزمین میں موجود ہے۔ افغان صدر کے بقول یہ کوشش کی جا رہی تھی کہ سارا کا سارا الزام افغانستان کے سر آئے اور یہ کہ وہ ثبوت کے سارے ان الزامات کو باطل قرار دینے میں کامیاب رہے ہیں۔ | اسی بارے میں حامد کرزئی: فوجی کارروائی ناکافی ہے 20 September, 2006 | آس پاس پاکستان سانپ پال رہا ہے: کرزئی26 September, 2006 | آس پاس امریکہ پاک۔افغان مذاکرات کا میزبان27 September, 2006 | آس پاس باہمی اختلافات دور کریں: بش28 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||