حامد کرزئی: فوجی کارروائی ناکافی ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف فوجی کارروائی کے ذریعے ان کے ملک میں دہشت گردی کا خاتمہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے لیے پناہ گاہوں اور وسیع پیمانوں پر بنے رابطے کے جالوں کو جو کہ ان دہشت گردوں کو بھرتی کرنے کے علاوہ ان کی تربیت کرتے ہیں، انہیں اسلحہ فراہم کرتے ہیں اور مالی مدد دینے کے ساتھ اور انہیں مختلف جگہوں پر تعینات کرتے ہیں کو تباہ کرنا ہو گا۔ اپنی تقریر میں حامد کرزئی نے کسی ملک کا خصوصی طور پر نام نہیں لیا لیکن بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ماضی میں حامد کازئی سمیت دیگر افغان رہنماؤں نے پاکستان پر تنقید کی ہے کہ وہاں پر طالبان دہشت گردوں کو پناہ دی جاتی ہے اور پاکستان ان کو سرحد پار کرنے سے روکنے کے لیے مناسب اقدامات نہیں کررہا۔ حامد کرزئی نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ افغانستان میں بڑھتی ہوئی منشیات کی پیداوار بھی دہشت گردی سے منسلک ہے اور منشیات کی لعنت افغانستان کی معیشت کے لیے بہت بڑا خطرہ ہیں۔ | اسی بارے میں بد سلوکی ناقابلِ قبول ہے: کرزئی21 May, 2005 | آس پاس حامد کرزئی دورہ پاکستان پر24 October, 2005 | آس پاس طالبان کی فہرست پاکستان کےحوالے16 February, 2006 | آس پاس قسم سے تحفظ فراہم کروں گا: کرزئی26 May, 2006 | آس پاس طالبان کو شکست ہو گی: رمزفیلڈ11 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||